spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
19 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ڈاکٹرز نے دل کی خطرناک بیماری کا آسان علاج ڈھونڈ لیا

سائنسدانوں نے مریضوں کے بیمار دلوں کے کمپیوٹر میں مجازی نقل تیار کیے ہیں جو ایک ایسا ماڈل ہے جو بالکل اصلی دل جیسا ہے۔ اس مجازی دل میں خطرناک دل کی بے ترتیبی کو روک کر ڈاکٹروں نے اصل دل کا بہتر علاج کرنے کا طریقہ سیکھ لیا۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق میں صرف 10 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا لیکن نتائج بہت امید افزا نکلے۔

یہ نیا طریقہ خاص طور پر اس خطرناک دل کی بیماری کے لیے مفید ہے جس میں دل کے نچلے حصے بہت تیزی سے اور بے ترتیب دھڑکنے لگتے ہیں۔

یہ بیماری اچانک دل کے دورے کی بڑی وجہ ہے۔ صرف امریکا میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ افراد اسی بیماری سے مرجاتے ہیں۔

کمپیوٹر میں بنا ہوا دل کیسے کام کرتا ہے؟

محققین نے ہر مریض کے دل کے نچلے حصے کا کمپیوٹر میں ایک مجازی نقل بنایا۔ کمپیوٹر کی اسکرین پر رنگ برنگے نقشے دکھائی دیتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ دل کی برقی لہر کیسے چلتی ہے اور کہاں پھنس کر مسئلہ پیدا کرتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ٹھیک بتادیتی ہے کہ دل کا کون سا حصہ خراب ہے پھر ڈاکٹر کمپیوٹر میں اس حصے کو ورچوئل طور پر جلاکر دیکھتے ہیں کہ اس سے مسئلہ ٹھیک ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر ٹھیک ہوجاتا ہے تو پھر وہی طریقہ اصلی دل پر استعمال کرتے ہیں۔

نتائج کیا رہے؟

اس طریقے سے علاج کرنے کے بعد ایک سال تک 10 میں سے 8 مریضوں کو دوبارہ دل کی یہ بیماری نہیں ہوئی جب کہ باقی دو مریضوں کو علاج کے بعد صرف ایک بار معمولی سی تکلیف ہوئی۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ 10 میں سے 8 مریضوں نے دل کی دوائیں لینا بھی چھوڑ دیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے ڈاکٹروں کو صرف وہی حصہ جلانا پڑتا ہے جو واقعی خراب ہے جس سے علاج کم وقت میں اور زیادہ محفوظ ہوجاتا ہے۔

اب ڈاکٹر اس نئے طریقے کو دل کی ایک اور عام بیماری (ایٹریل فیبریلیشن) کے علاج کے لیے بھی استعمال کررہے ہیں۔ کینسر کے علاج کے لیے بھی ایسے ہی کمپیوٹر ماڈلز پر کام ہورہا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں