حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ شدت والی ورزش 8 مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہیں جن میں ٹائپ 2 ذیابیطس بھی شامل ہے۔
ماہرین صحت کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ہر قسم کی جسمانی سرگرمی کو کسی نہ کسی شکل میں ورزش سمجھا جائے کیونکہ یہ عمل کسی بھی سرگرمی نہ کرنے سے بہتر ہے۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایک خاص قسم کی ورزش کرنے سے آئندہ سات سالوں میں آٹھ دائمی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں لائی جاسکتی ہے۔
اس تحقیق میں یو کے بایو بینک کے تحت 96000 سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جنہوں نے ایک ہفتے تک ایکٹیویٹی ٹریکرز پہنے اور تقریباً 376,000 افراد جنہوں نے اپنی جسمانی سرگرمی کے بارے میں آگاہ کیا۔
محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگلے سات سالوں میں ان افراد کو آٹھ دائمی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا کتنا امکان تھا۔
ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی روزمرہ سرگرمیوں میں زیادہ تیز شدت والی سرگرمی شامل تھی، ان میں بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔
مثلاً ڈیمنشیا کا خطرہ 63 فیصد جبکہ ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 60 فیصد کم تھا اسی طرح سات سال کے دوران موت کا خطرہ 46 فیصد کم تھا۔
حیران کن بات یہ بھی تھی کہ یہ فوائد تب بھی دیکھے گئے جب لوگ روزانہ صرف چند منٹ ہی تیز شدت والی سرگرمی کرتے تھے۔
تحقیق کے مطابق تیز شدت والی ورزش جن بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتی ہیں ان میں امراض قلب، دل کی بے ترتیب دھڑکن، ٹائپ 2 ذیابیطس، سوزش سے متعلق بیماریاں (جیسے گٹھیا، امراض جگر، دائمی سانس کی بیماریاں گردوں کے امراض اور ڈیمنشیا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی ورزش دل کی دھڑکن کو تیز کرتی ہے جس سے دل زیادہ مؤثر طریقے سے خون پمپ کرتا ہے ساتھ ہی یہ خون کی نالیوں کو آرام دہ حالت میں رکھتی ہے جس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے یوں یہ ورزش جسم کے مجموعی نظام کو بہتر بناتی ہے۔
ان ورزشوں میں جاگنگ کرنا یا دوڑنا، سوئمنگ کرنا، تیز رفتار سے سائیکل چلانا یا چڑھائی پرچڑھنا، سنگلز ٹینس اور باسکٹ بال کھیلنا شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ پہلے سے ورزش کر رہے ہیں تو اس میں رفتار کو بڑھا دیں جیسے واک کر رہیں ہیں تو رفتار کو بڑھا دیں اسی طرح سیڑھیاں بھی تیزی سے چڑھیں جو بھی ورزش کریں رفتار کو بڑھا دیں۔


