spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
17 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے خوش آئند پیشرفت قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور جہازوں کی آمدورفت کے لیے تیار ہے۔

اپنی اس ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو آبنائے ایران لکھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ طنزاً ایسا کہا ہے یا غلطی سے ایسا ہوگیا ہے۔

IRAN HAS JUST ANNOUNCED THAT THE STRAIT OF IRAN IS FULLY OPEN AND READY FOR FULL PASSAGE. THANK YOU!

اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ کی جس میں انھوں نے لکھا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے تیار ہے لیکن ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

THE STRAIT OF HORMUZ IS COMPLETELY OPEN AND READY FOR BUSINESS AND FULL PASSAGE, BUT THE NAVAL BLOCKADE WILL REMAIN IN FULL FORCE AND EFFECT AS IT PERTAINS TO IRAN, ONLY, UNTIL SUCH TIME AS OUR TRANSACTION WITH IRAN IS 100% COMPLETE. THIS PROCESS SHOULD GO VERY QUICKLY IN THAT MOST OF THE POINTS ARE ALREADY NEGOTIATED.

انھوں نے مزید لکھا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی اُس وقت جاری رہے گی جب تک ہمارے ایران کے ساتھ معاملات مکمل طور پر طے نہیں ہو جاتے۔

البتہ امریکی صدر اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ یہ عمل جلد مکمل ہونے کا امکان ہے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔

A GREAT AND BRILLIANT DAY FOR THE WORLD! DJT

بعد ازاں اپنی تازہ ترین پوسٹ میں آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔

ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔

ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں