spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
16 July, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

کراچی میں بجلی لوڈشیڈنگ کا معاملہ سنگین، سرکاری کالجوں اور اسکولوں کا نظام معطل

کراچی میں بجلی کی بندش کے سبب سرکاری کالجوں اور نجی اسکولوں میں نئی تعلیمی سیشن کے آغاز کی تیاریوں کے سلسلے میں جاری امور ٹھپ ہوگئے ہیں اور تین ہفتوں سے بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور پرنٹنگ کا نظام معطل اور آن لائن اسکول رجسٹریشن، کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس کا اجرا، شکایات کی سماعت اور سرکاری کالجوں کے داخلوں سے متعلق امور متاثر ہو رہے ہیں۔

کراچی کے علاقے برنس روڈ پر واقع ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیوٹ انسٹیٹیوشن آفس میں بجلی کی بندش کے باعث عملہ پریشان ہے، ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ، ریجنل ڈائریکٹر گورنمنٹ کالجز سندھ، ریجنل ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کراچی اور ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کے دفاتر میں گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث دفتری امور بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔

روزانہ دفتری اوقات کے دوران کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہےجس سے سرکاری خدمات کی فراہمی تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، ان دفاتر میں روزانہ صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بجلی غائب رہتی ہے جبکہ شام 4 بجے دوبارہ بجلی بند ہو جاتی ہے۔

اسی طرح 8 گھنٹے کے سرکاری اوقات میں صرف تین سے چار گھنٹے ہی بجلی دستیاب ہوتی ہے جبکہ چار سے پانچ گھنٹے لوڈشیڈنگ کے باعث بیشتر دفتری کام رک جاتا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر انسپیکشنز نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا سب سے زیادہ اثر جدید آن لائن دفتری نظام پر پڑ رہا ہے، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور پرنٹنگ کی سہولت بند ہونے سے سرکاری کارروائیاں مکمل نہیں ہو پا رہیں، پرائیویٹ اسکولوں کی آن لائن رجسٹریشن، کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس کا اجرا، آن لائن شکایات کا اندراج اور ان پر کارروائی سمیت متعدد اہم خدمات متاثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام بجلی کے واجبات ادا کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود کے-الیکٹرک کی جانب سے دفتری اوقات میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ متعدد بار متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا اور کے-الیکٹرک کو باضابطہ خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں تاہم تاحال کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب کالجز سندھ کے حکام نے کہا کہ سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں جاری داخلہ مہم سے متعلق امور بھی بروقت انجام نہیں دیے جا رہے۔

حکام کے مطابق چار اہم سرکاری دفاتر اس صورت حال سے متاثر ہیں، جن میں ڈائریکٹر جنرل گورنمنٹ کالجز سندھ، ریجنل ڈائریکٹر گورنمنٹ کالجز سندھ، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ اور ریجنل ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کراچی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اساتذہ، طلبہ، والدین، پرنسپلز، اسکول مالکان اور دیگر سائلین بڑی تعداد میں اپنے مسائل کے حل، داخلوں، رجسٹریشن، شکایات اور دیگر دفتری کاموں کے لیے ان دفاتر کا رخ کرتے ہیں، مگر بجلی نہ ہونے کے باعث انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور اکثر بغیر کام کرائے واپس جانا پڑتا ہے۔

محکمہ کالجز کے حکام نے کہا کہ عمارت کی تینوں منزلوں پر ایک جیسی صورت حال ہے، بجلی کی بندش کے دوران اے سی اور پنکھے بند ہونے سے چھوٹے کمروں میں شدید حبس ہو جاتا ہے، جس کے باعث ہم افسران اور ملازمین دفاتر سے باہر کرسیاں لگا کر بیٹھنے پر مجبور ہیں اور روز مرہ کے کام کرتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دفتری اوقات میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور ٹرانسفارمر سمیت دیگر تکنیکی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ سرکاری امور اور عوامی خدمات معمول کے مطابق بحال ہو سکیں۔

اس حوالے سے کے الیکٹرک ترجمان سے رابطہ کیا گیا مگر کوئی جواب نہیں آیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں