spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
1 June, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

جمشید دکھی کا دوسرا شعری مجموعہ ” جاگیر۔درد”

تعارف و تبصرہ : نیاز نیازی
گلگت بلتستان کے ہردلعزیز شاعر جناب جمشید دکھی کی دوسری شعری تصنیف ” جاگیر ۔درد” شائع ہوئی ہے۔بدقسمتی سے ان کے تمام شعری مجموعے وفات کے بعد ہی منظر پر آگئے، جن میں تصویر۔درد،جاگیر۔درد اور تنویر۔درد شامل ہیں۔
کتاب جاگیر درد دکھی صاحب کی نظموں اور غزلوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ہنزہ پرنٹنگ پریس جماعت خانہ بازار سے شائع ہوئی ہے۔سبز رنگ کے ٹائٹل صفحوں کے ساتھ بیک ٹائٹل پر دکھی صاحب کی تصویر اور ان کی شہرہ آفاق نظم
” ہم اپنے دیس جی بی کے حسیں پیکر میں رہتے ہیں” کے چند اشعار درج ہیں۔جاگیر۔ درد کا انتساب حلقہء اربابِ ذوق گلگت کے نام منسوب ہے۔ دکھی صاحب انتساب میں فرماتے ہیں کہ
” حلقہء اربابِ ذوق گلگت کے نام جس کی تربیت نے مجھے قلم کار بنایا”
164 صحفوں پر مشتمل اس مجموعے میں 78 نظموں سمیت غزلیں شامل ہیں جب کہ کتاب کی قیمت درج نہیں ہے، یہ شعری مجموعہ نارتھ نیوز ایجنسی مدینہ مارکیٹ گلگت، الحرم بک ڈپو صدر بازار گلگت اور گولڈن بک ڈپو صدر بازار گلگت پر دستیاب ہے۔
اس کتاب کا دیباچہ “تیری آنکھوں میں جو نمی ہے دکھی ” کے عنوان سےمعروف شاعر عبد الحفیظ شاکر نے لکھا ہے۔پییش لفظ بلتستان سے تعلق رکھنے والے منفرد اسلوب کے مالک نامور شاعر و ادیب جناب احسان علی دانش نے تحریر کی ہے۔
اس کتاب میں صدر نشین بزم علم وفن سکردو میر اسلم حسین سحر کا دکھی صاحب کے حوالے سے مختصر مگر جامع مضمون بھی شامل ہے۔
جاگیر درد کا آغاز دکھی صاحب کی مشہور حمد ” ثنا کا اہل رب۔دو جہاں ہے” سے ہوتا ہے۔ اس کتاب کے لیے میعاری کاغذ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے میں پروف ریڈنگ کی کچھ غلطیاں موجود ہیں جب کہ بیک ٹائٹل پر نظم کے ایک مصرعے میں لفظ ” پہاڑی” کی جگہ ” پہاڑ” لکھا گیا ہے اور بعد میں کاغذ کا ایک ٹکڑا چسپاں کرکے اس غلطی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس سے ٹائٹل پیج کی بدصورتی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ ایک ہی کلام کو دو مرتبہ شامل کیا گیا ہے۔
” ظالم مری نگری کا یہ سلطان بہت ہے” یہ کلام صفحہ نمبر 102 میں بھی شامل ہے اور اس کے بعد صفحہ 152 میں بھی دربارہ آیا ہے۔امید ہے اشاعت دوم میں ان غلطیوں کو دور کیا جائے گا۔
آخر میں اس شعری مجموعے سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:۔

دیدارِ محمد کا جو مشتاق نہیں ہے
وہ زہر ہلاہل تو ہے تریاق نہیں ہے

آئین تو بحال نہیں ہوسکا مگر
بس اک دعا یہی ہے کہ بجلی بحال ہو

مرے بچوں اسے مت چھوڑ دینا
بڑا انمول ہے بستہ تمہارا

سدا خالق سے ہے ڈرنا
وفا مخلوق سے کرنا
تمہاری جان جائے پر
تعصب میں نہیں پڑنا

پتہ سسرال کا دے تو خبر لیں !
مری ماں ! تو بتا کس کی بہو ہے

محبت عام کر لینا دکھی کار۔رسالت ہے
تعصب کے صنم سارے مری ٹھوکر میں رہتے ہیں

گفتا میں کچھ سوچ کے کرتا ہوں وگرنہ
آمد کا مرا شعر ہے آورد نہیں ہے

وہ آگئے ہیں اس لئے مطلع حسین ہے
ایسا بھی خوشگوار یہ موسم کبھی نہ تھا

پہلے سولی پر یہ دل رکھا گیا
پھر ترے چہرے پہ تل رکھا گیا
عارضی خوشیوں سے بہلا کر مجھے
درد اور غم مستقل رکھا گیا

چاہتے ہو حقوق تو لوگو !
مل کے اک احتجاج کر لینا

میں اپنی آنا کو کبھی دربار پہ رکھتا
بہتر تھا کہ سر اپنا کسی دار پہ رکھتا
تاثیر نہ ہوتی مرے نالوں میں تو منصف
پہرہ نہ کبھی یوں مری گفتار پہ رکھتا

بڑھاپے میں جوانی دیکھتا ہوں
پلٹتی زندگانی دیکھتا ہوں
مرا ماضی مجھے جھنجوڑتا ہے
میں جب تیری نشانی دیکھتا ہوں

ہندو یہ مسلمان وا نصاریٰ سے مجھے کیا
انسان ہوں میری یہی پہچان بہت ہے
ملا کا یہاں پیٹ نکلتا ہے مسلسل
لیکن وہ سمجھتا ہے کہ ایمان بہت ہے

ہم تو تعصبات کی بھٹی میں جل گئے
جانے خدا گئے ہیں جہاں امن کے رسول
اے کاش لینے والا کوئی ایک بھی نہیں
تقسیم کررہا ہے دکھی الفتوں کے پھول

غم۔حسین ہے محدود دس محرم تک
غرور دل میں مگر سال بھر یزید کا ہے

آلودگی نشان۔جہالت ہے دوستو!
پاکیزگی کی عین عبادت ہے دوستو !

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں