اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا، ہز ہائی نس پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا تاریخی، روح پرور اور یادگار دورہ بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوگیا۔
یہ دورہ محض ایک مذہبی رہنما کی آمد تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے پاکستان، خصوصاً گلگت بلتستان اور چترال کے عوام کے دلوں میں باہمی احترام، مذہبی رواداری، ثقافتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبات کو
مزید مضبوط اور توانا کر دیا۔
دورے کے آغاز سے لے کر رخصتی تک محبت، عقیدت اور خلوص کا جو والہانہ منظر دیکھنے میں آیا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔
ریاستِ پاکستان، حکومتِ گلگت بلتستان، حکومتِ خیبر پختونخوا، سول و عسکری حکام، مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، سیاسی و سماجی شخصیات، دانشوروں، نوجوانوں اور عوام الناس نے جس گرمجوشی اور احترام کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کیا، اُس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرزمین آج بھی مذہبی رواداری، احترامِ انسانیت اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسی اعلیٰ اقدار سے مالا مال ہے۔
اس تاریخی دورے کے دوران دیدار گاہوں کی تزئین و آرائش، فول پروف سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، عوامی سہولیات اور جماعتی انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں، نامدار کونسلز اور رضاکاروں نے جس غیر معمولی محنت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ یقیناً قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین ہے۔ ۔
درحقیقت یہ دورہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ پچاسویں امام کی حیثیت سے ہز ہائی نس پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔
اس دوران انہوں نے مختلف مقامات پر اپنے مریدین کو دیدار سے نوازا اور اپنے فرامین و خطابات میں جن موضوعات پر خصوصی زور دیا، وہ نہ صرف اسماعیلی جماعت بلکہ پورے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے پیغامات کا مرکزی محور دینِ اسلام کی حقیقی روح، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ختمِ نبوت ﷺ پر کامل ایمان، اتحاد و اخوت، علم و ہنر کا فروغ، نوجوانوں کی کردار سازی، سماجی خدمت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ترقی تھا۔
آج جب دنیا مذہبی انتہا پسندی، نفرت، تقسیم اور عدم برداشت جیسے سنگین چیلنجز کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں اس نوعیت کے معتدل، مثبت اور انسان دوست پیغامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پرنس رحیم آغا خان نے اپنے فرامین میں بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ایک مہذب، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ صرف اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب علم، اخلاق، برداشت اور خدمتِ خلق کو اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ فکر ہے جس کی آج پاکستان سمیت پوری دنیا کو اشد ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان اور چترال کے عوام نے جس محبت، خلوص، امن پسندی اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا، اُس نے یہ حقیقت بھی دنیا پر آشکار کر دی کہ ان علاقوں کے لوگ ہمیشہ سے رواداری، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے علمبردار رہے ہیں۔ یہاں مختلف مسالک، زبانوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور یہی وہ سماجی سرمایہ ہے جسے مزید مضبوط اور محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس تاریخی دورے کو صرف ایک مذہبی تقریب یا رسمی اجتماع کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس سے ابھرنے والے اجتماعی، اخلاقی اور قومی پیغامات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اگر ہم واقعی ایک پرامن، ترقی یافتہ اور مستحکم معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں تو ہمیں برداشت، تعلیم، خدمت، اتحاد اور باہمی احترام جیسی اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔
یہی وہ روشن پیغام ہے جو اس تاریخی دورے کے دوران نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آیا اور یہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو امن، استحکام اور خوشحالی کی منزل کی جانب لے جا سکتا ہے۔


