ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز نہ صرف دل اور دماغ کی صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ یہ پھیپھڑوں کی بہتر کارکردگی برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں اومیگا 3 کی مناسب مقدار پھیپھڑوں کے افعال میں آنے والی کمی کی رفتار کو سست کرنے سے منسلک پائی گئی ہے۔
اومیگا 3 فیٹی ایسڈز مچھلی، مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس، خشک میوہ جات، مختلف بیج، نباتاتی تیل اور فورٹیفائیڈ غذاؤں میں وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ پہلے ہی اپنی اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات کی وجہ سے دل کی بیماریوں، فالج اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات کم کرنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں، تاہم اب نئی تحقیق نے پھیپھڑوں کی صحت کے حوالے سے بھی ان کی اہمیت اجاگر کی ہے۔
پھیپھڑوں اور اومیگا 3 کے درمیان مضبوط تعلق
یہ تحقیق امریکن جرنل آف ریسپائریٹری اینڈ کریٹیکل کیئر میڈیسن میں شائع ہوئی، جس میں محققین نے اومیگا 3 فیٹی ایسڈز اور پھیپھڑوں کے افعال کے درمیان تعلق کا تفصیلی جائزہ لیا۔
نیویارک کی کورنیل یونیورسٹی سے وابستہ تحقیق کی سربراہ اور ڈائریکٹر پیٹریشیا اے کاسانو کا کہنا ہے کہ اگرچہ غذا کے دل اور کینسر جیسی بیماریوں پر اثرات کے حوالے سے کافی تحقیق ہو چکی ہے، لیکن پھیپھڑوں کی بیماریوں میں غذائی عوامل کے کردار پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
ان کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اومیگا 3 صرف متوازن غذا کا حصہ ہی نہیں بلکہ پھیپھڑوں کی صحت برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دو الگ مطالعات میں نتائج کی تصدیق
محققین نے اس حوالے سے دو مختلف مطالعات کیے۔ پہلے مرحلے میں امریکہ کے 15 ہزار 63 افراد پر مشتمل ایک طویل مشاہداتی تحقیق کی گئی، جن کی اوسط عمر 56 سال تھی۔ تحقیق کے آغاز پر تمام شرکا عمومی طور پر صحت مند تھے اور ان میں زیادہ تر افراد کو پھیپھڑوں کی کسی بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔
شرکا کی صحت کا اوسطاً سات سے بیس سال تک جائزہ لیا گیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ تھی، ان میں پھیپھڑوں کے افعال میں کمی کی رفتار نسبتاً سست دیکھی گئی۔
پانچ لاکھ سے زائد افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا بھی جائزہ
تحقیق کے دوسرے مرحلے میں یورپ کے پانچ لاکھ سے زائد افراد کے جینیاتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ اس دوران محققین نے خون میں موجود مخصوص جینیاتی مارکرز کا مطالعہ کیا، جنہیں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی سطح کا اشاریہ تصور کیا گیا، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کا پھیپھڑوں کی صحت سے کیا تعلق بنتا ہے۔
اس تجزیے سے بھی یہی نتیجہ سامنے آیا کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز پھیپھڑوں کی بہتر کارکردگی اور ان کی صحت برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بچاؤ یا علاج کے لیے صرف سپلیمنٹس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ متوازن غذا، صحت مند طرزِ زندگی اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق غذائی انتخاب مجموعی صحت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔


