18 جولائی کا دن میرے گاؤں” ہندور” کے لئے ایک اور ناقابلِ فراموش دن بن گیا۔ اس روز پاک فوج کے جوان نصرت علی ولد مومن درزی نے کشمیر کے محاذ پر وطنِ عزیز کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا اور یوں شہداء کی سرزمین ہندور ایک بار پھر اپنے ایک اور سپوت کے لہو سے معطر ہوگئی۔ شہید کا جسدِ خاکی جب پورے فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی گاؤں پہنچا تو ہر آنکھ اشک بار تھی، مگر ہر دل فخر سے سرشار تھا۔ تدفین کے بعد جب سبز ہلالی پرچم شہید کے بھائی کے سپرد کیا گیا تو اس نے نہایت عقیدت سے اسے بوسہ دے کر قبول کیا۔ یہ منظر صرف ایک خاندان کے صبر و استقامت کا نہیں بلکہ پورے گاؤں کی حب الوطنی اور ریاست سے وفاداری کا عکاس تھا۔
نو قائم شدہ ضلع گوپس یاسین کا خوبصورت گاؤں ہندور تقریباً چار سو گھرانوں پر مشتمل ایک دلکش بستی ہے۔ مشرق و مغرب میں بلند و بالا پہاڑی سلسلے، برف پوش گلیشیئرز، قدرتی ندی نالے اور حسین جھیلیں اس کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں، جبکہ شمال اور جنوب میں بہتا دریائے غذر اس خطے کی زندگی کی علامت ہے۔ وادی یاسین کے آخری گاؤں درکوت سے نکلنے والے پانی، جن میں دولونگ نالہ ، فرنگی نالہ، غموبر گلیشیئر اور خلتر جھیل کے ذخائر شامل ہیں، دریائے غذر، دریائے گلگت اور پھر دریائے سندھ کی صورت اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے وسیع میدانوں کو سیراب کرتے ہیں۔ قدرت نے اس خطے کو حسن، پانی اور وسائل کی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔
ہندور صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ اپنی تاریخ، ثقافت اور بہادری کے حوالے سے بھی منفرد مقام رکھتا ہے۔ مقامی روایات میں شری بدت سے متعلق متعدد داستانیں آج بھی زبان زدِ عام ہیں، جو اس علاقے کی قدامت اور تاریخی اہمیت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان روایات کے ساتھ ساتھ ہندور کے لوگوں کی جرات، مہمان نوازی اور باہمی احترام کی مثالیں بھی نسل درنسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔
اس گاؤں کی سب سے نمایاں شناخت اس کے بہادر سپوت ہیں۔ یہاں وطن سے محبت، ریاست سے وفاداری اور دفاعِ وطن کا جذبہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ نسلوں سے چلی آنے والی روایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غذر کو بجا طور پر “شہداء کی سرزمین” کہا جاتا ہے۔ 1947ء سے لے کر آج تک اس خطے کے سیکڑوں جوان وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکےہیں۔
وادی یاسین اور بالخصوص ہندور کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نشانِ حیدر پانے والے عظیم سپوت حوالدار لالک جان شہید سمیت متعدد ایسے بہادر جوان وطن کو دیئے جنہوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کا بلند مرتبہ پایا۔ آج بھی اس گاؤں کے بے شمار نوجوان پاک فوج اور دیگر دفاعی اداروں میں ملک کی سرحدوں پر شب و روز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی خاندان ایسا ہو جس کا کوئی فرد افواجِ پاکستان سے وابستہ نہ رہا ہو۔ یہی اس گاؤں کا سب سے بڑا سرمایہ اور سب سے بڑا اعزاز ہے۔
ہندور کی فضاؤں میں شہداء کی یادگاریں، ان پر لہراتے سبز ہلالی پرچم اور ہر گھر میں موجود قربانیوں کی داستانیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے شہداء کے خون سے زندہ رہتی ہیں۔ شاعر نے سچ ہی کہا ہے:
“شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔”
شہادت کا اصل مقام وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنا بیٹا، بھائی یا باپ وطن پر قربان کیا ہو، یا وہ ادارہ جس کی آغوش میں یہ سپوت پروان چڑھتے ہیں۔ شہداء پر گفتگو کرنا آسان ہے، مگر ان جیسا ایثار، وفاداری اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
نصرت علی شہید کی قربانی اس بات کی تازہ مثال ہے کہ ہندور کی مٹی آج بھی اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ شہادتیں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ مزید مضبوط بناتی ہیں۔ یہی جذبہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا اور وطن کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔
ہماری ذمہ داریاں صرف بندوق اٹھانے والوں تک محدود نہیں۔ کوئی سرحد پر کھڑا ہو کر وطن کی حفاظت کرتا ہے اور کوئی “قلم “کے ذریعے ان محافظوں کی قربانیوں کو تاریخ کا حصہ بناتا ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: پاکستان کی سلامتی، استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی حفاظت،
ہندور آج بھی اپنے شہداء کے لہو کی خوشبو سے مہک رہا ہے، اور اس کے باسی اس عہد پر قائم ہیں کہ اگر وطن نے کبھی پکارا تو اس دھرتی کے سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہمارا فخر، اور یہی ہماری آنے والی نسلوں کے لئے سب سے قیمتی ورثہ ہے۔ دفاع وطن صرف محاذ جنگ پر مورچے سنبھالنے والے جوانوں ہی کی زمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک ایسا قومی فریضہ ہے جس میں عسکری قیادت، ریاستی ادارے، حکومت،سفارتی محاذ پر خدمات انجام دینے والے نمایندے اور پوری قوم اپنی اپنی زمہ داریاں نبھاتی ہے۔افواج پاکستان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت،نظم و ضبط اور قربانیوں کے ذریعے سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں، جبکہ ریاستی قیادت قومی سلامتی، داخلہ استحکام اور عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو موثر انداز میں پیش کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کرتی ہیں ۔ایک مضبوط دفاع ہمیشہ مضبوط سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ساتھ مل کر ہی دیرپا امن کی ضمانت بنتا ہے ۔
آج کی دنیا میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ سفارتی،سیاسی،معاشی، اطلاعاتی اور تکنیکی محاذ بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں ۔پاکستان کے سفارت کار ، پالیسی ساز اور متعلقہ ادارے عالمی فورمز پر ملک کے موقف ، علاقائی امن ، مسئلہ کشمیر اور دیگر قومی مفادات کے تحفظ کیلئے اپنا کردار اداکرتے ہیں ۔ جب محاذ پر سپاہی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتاہے تو اس کی قربانی کو موثر سفارت کاری، قومی اتحاد اور ریاستی حکمت عملی مزید بامقصد بناتی ہے ۔ہندور جیسے گاؤں اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ پاکستان کی دفاعی قوت صرف عسکری تنصیبات میں ہی نہیں بلکہ ان ماؤں، بہنوں کی دعاؤں ان باپوں کی حوصلوں، ان بیواؤں، یتیموں کی حسرتوں اور ان بھائیوں کے عزم میں بھی پوشیدہ ہے جو اپنے پیاروں کو وطن پر قربان کرنے کے باوجود فخر سے سبز ہلالی پرچم کو سینے سے لگا لیتے ہیں ۔ یہی قومی وحدت ریاست کی اصل طاقت ہے ، جو دشمن کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستانی قوم اپنی آزادی، خود مختاری اور قومی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرےگی۔ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو صرف یادگاروں تک محدود نہیں رکھنا چاہئے بلکہ ان کے مشن کو دیانت ، اتحاد، قانون کی پاسداری، قومی خدمت اور باہمی احترام کے ذریعے زندہ رکھنا چاہئے ۔
جب قوم ، ریاست اور دفاعی ادارے ایک ہی مقصد کےلئے یکجا ہوں تو وطن کا دفاع ناقابل تسخیر بن جاتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو ” ہندور” کی سر زمین اپنے ہر شہید کے لہو سے آنے والی نسلوں تک پہنچاتی رہےگی۔
علامہ اقبال نے کہا خوب کہا ہے کہ”یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ۔۔بناتا ہے اسے مرد مجاہد،خدا کا ہاتھ”#


