spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
24 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پانی جمنے سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ سائنسدانوں نے ’’پوشیدہ نقطہ‘‘ ڈھونڈ لیا

طبیعیات دانوں نے پانی میں ایک نیا ’’نازک نقطہ‘‘ دریافت کیا ہے جو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب پانی معمول سے کم درجہ حرارت پر بھی مائع حالت میں رہتا ہے۔

پانی جب زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس کا رویہ طبیعیات کے لحاظ سے عجیب ہوجاتا ہے۔ سائنسدان دباؤ اور درجہ حرارت کی مختلف ترکیبوں کے ذریعے پانی کو جمنے سے روک کر مائع حالت میں رکھ سکتے ہیں۔

پچھلی تحقیق میں خیال کیا جاتا تھا کہ اس مرحلے پر پانی دو الگ الگ حالتوں میں بٹ جاتا ہے- ایک زیادہ کثافت والا مائع اور دوسرا کم کثافت والا مائع۔

اس نئی تحقیق میں بین الاقوامی ٹیم نے اس دوہری مائع حالت کے ساتھ ساتھ ایک نازک نقطہ کا بھی مشاہدہ کیا جس کے بعد پانی ایک واحد لیکن غیر مستحکم حالت میں چلا جاتا ہے۔

اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے کیمیا دان اینڈرس نیلسن کے مطابق انہوں نے انتہائی تیز رفتار ایکس رے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا تاکہ پانی کے جم جانے سے پہلے اس کے رویے کا مشاہدہ کیا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ دہائیوں سے یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ پانی میں ایسا نازک نقطہ موجود ہے اور اب اس کی موجودگی ثابت ہوگئی ہے۔

محققین نے انفراریڈ لیزر سے پانی کو تیزی سے گرم کیا اور ایکس رے سے لمحوں میں تصویریں لیں۔ انہوں نے برف کو دوہری مائع حالت، پھر نازک نقطہ اور پھر غیر مستحکم حالت سے گزارا۔

ابھی نازک نقطہ کی صحیح جگہ معلوم نہیں ہوسکی لیکن محققین کا خیال ہے کہ یہ منفی 63 ڈگری سیلسیس اور 1000 ماحولیاتی دباؤ کے قریب ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نازک نقطہ کسی حد تک بلیک ہول کی طرح کام کرتا ہے۔ جیسے جیسے پانی اس نقطہ کے قریب پہنچتا ہے اس کی اندرونی حرکیات سست ہوجاتی ہیں اور ساخت میں تبدیلیاں زیادہ وقت لینے لگتی ہیں۔ اس وجہ سے پانی اس تبدیلی سے بچ نہیں سکتا۔

یہ دریافت صرف طبیعیات کے لیے ہی نہیں بلکہ پانی کی عجیب خصوصیات کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔ مثال کے طور پر جب مادہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو عام طور پر سکڑتا اور گھنا ہوجاتا ہے لیکن پانی ایسا نہیں کرتا- اسی لیے برف پانی میں تیرتی ہے۔

اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے فووس پیراکس کا کہنا ہے کہ پانی واحد مائع ہے جو ماحولیاتی حالات میں سپر کریٹیکل حالت میں پایا جاتا ہے جہاں زندگی موجود ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا یہ محض اتفاق ہے یا اس میں کوئی اہم راز چھپا ہے۔

محققین اب یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ان نتائج کا طبیعی، کیمیائی، حیاتیاتی، ارضیاتی اور موسمیاتی عمل سے کیا تعلق ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں