ٹوکیو: جاپان نے سونی گروپ کو مقامی سیمی کنڈیکٹر (چپ) کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑی مالی امداد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
جاپان کی معاشیات، تجارت و صنعت کی وزارت نے قومی سلامتی کے تحفظ کے قانون کے تحت سونی کو 60 ارب ین (تقریباً 380 ملین ڈالر) کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سیمی کنڈیکٹرز کی اہم اقسام کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا اور بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا ہے۔
سونی نئے پلانٹ کی تعمیر کرے گا
سونی سیمی کنڈیکٹر سلوشنز نے کوماموتو پریفیکچر کے شہر کوشی میں ایک نیا سیمی کنڈیکٹر پلانٹ بنانے کے لیے 180 ارب ین (تقریباً 1.13 ارب ڈالر) کی مجموعی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، یہ پلانٹ پہلے سے زیر تعمیر ہے۔
توقع ہے کہ یہ پلانٹ ہر ماہ 10 ہزار یونٹ 300 ملی میٹر ویفرز تیار کرے گا جس کی فراہمی مئی 2029 میں شروع ہوگی۔
اے آئی امیج سینسرز پر فوکس
جاپانی حکومت نے امیج سینسرز کو مستقبل کی صنعتوں کے لیے ایک اہم ٹیکنالوجی قرار دیا ہے۔ یہ پرزے خودکار گاڑیوں، صنعتی نظاموں اور اے آئی پر مبنی امیجنگ حل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اقتصادی وزیر ریوسی اکازاوا نے کہا کہ اس طرح کے پرزوں کی مستحکم فراہمی برقرار رکھنا فزیکل اے آئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
واضح رہے کہ سونی دنیا بھر میں امیج سینسرز کے میدان میں سرفہرست ہے۔ اس کی سینسر ٹیکنالوجی اسمارٹ فونز، آٹوموٹیو سسٹمز اور دیگر جدید الیکٹرانکس میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔


