spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
24 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

نظامِ شمسی سے گزرنے والا قدیم دم دار ستارہ، ماہرین نے حیران کن راز بے نقاب کردیا

ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال ہمارے نظامِ شمسی کے قریب سے گزرنے والا ایک نایاب دم دار ستارہ کہکشاں کے ایک نہایت سرد اور دور دراز حصے سے آیا تھا۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ دم دار ستارہ اپنی نوعیت کا تیسرا تصدیق شدہ مہمان ہے جو کسی دوسرے نظام سے ہمارے ہاں پہنچا اور امکان ہے کہ یہ اب تک دریافت ہونے والے دم دار ستاروں میں سب سے قدیم ہو۔

تحقیق کے مطابق اس کی عمر تقریباً 11 ارب سال ہوسکتی ہے جو سورج کی عمر سے بھی دو گنا زیادہ ہے۔

ماہرین نے اس کا مشاہدہ جنوبی امریکا کے ایک صحرائی علاقے میں قائم طاقتور دوربین کے ذریعے کیا جب کہ مختلف خلائی اداروں نے بھی اسے قریب سے دیکھنے کے لیے جدید دوربینیں استعمال کیں۔

یہ برف سے بنا ہوا دم دار ستارہ گزشتہ برس مریخ کے قریب سے گزرا اور دسمبر میں زمین کے نسبتاً قریب آیا جس کے بعد اب یہ مشتری کے مدار سے بھی آگے نکل کر ہمیشہ کے لیے نظامِ شمسی سے باہر جارہا ہے۔

سائنس دانوں نے اس کے اندر بھاری ہائیڈروجن کی غیر معمولی مقدار دریافت کی جو اس کے انتہائی سرد ماحول میں بننے کی نشاندہی کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس دم دار ستارہ کا اصل مقام ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا تاہم اس کے حجم کا اندازہ چند سو میٹر سے کئی کلومیٹر تک لگایا گیا ہے۔

یہ دم دار ستارہ انتہائی تیز رفتاری سے خلا میں سفر کررہا ہے اور اس کی رفتار لاکھوں کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دم دار ستارے کے مطالعے سے کائنات کے ابتدائی دور اور سیاروں کی تشکیل کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دو ایسے دم دار ستارے دریافت ہوچکے ہیں جو مختلف اوقات میں ہمارے نظامِ شمسی سے گزرے تھے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں