22گلگت کروڑ خرچ کر کے تھرمل جنریٹرز کے ذریعے بجلی دینے کی تجویز نگران کابینہ نے مسترد کردی
گلگت : گلگت میں ماہِ رمضان کے دوران بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کے لیے 22 کروڑ روپے کی لاگت سے تھرمل جنریٹرز کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کی تجویز صوبائی نگران کابینہ گلگت بلتستان نے مسترد کر دی۔
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کی زیر صدارت نگران کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد نگران
وزیر اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی غلام عباس نے دیگر صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ
کابینہ نے تھرمل جنریٹرز کے ذریعے بجلی دینے کی تجویز اس لیے مسترد کی کیونکہ ماضی میں جنریٹرز کے ذریعے
بجلی کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی اور اس کے باوجود عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا، جو عوامی وسائل کے ضیاع کے مترادف تھا۔
غلام عباس نے بتایا کہ اجلاس میں غوارڑی پاور پراجیکٹ کی فعالیت کو کابینہ نے مسترد کردی، کیونکہ اسے پی ایس ڈی پی سے خارج کیا گیا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ اسے دوبارہ پی ایس ڈی پی میں شامل کرائے۔ کابینہ نے ای-پروکیورمنٹ سسٹم کے نفاذ کے لیے گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور وفاقی پی پی آر اے کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری بھی دی۔
انہوں نے کہا کابینہ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر استور میں ریسکیو 1122، محکمہ صنعت و تجارت کے ضلعی افسر کے لیے رہائشی و ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے قیام، بلائنڈ لیک شگر میں محکمہ فشریز کے لیے زمین کی منتقلی، حکومت گلگت بلتستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور ٹیکس پیڈ کلیمز، تاجروں کی بایومیٹرک تصدیق کے لیے نادرا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی گئی۔
اس موقع پر نگران وزیر داخلہ ساجد علی بیگ نے کہا کہ شاہراہ قراقرم پر کانوائے سسٹم کے حوالے سے عوام کو جلد خوشخبری ملے گی۔ رمضان المبارک میں سیکیورٹی مزید بہتر بنائی جائے گی جبکہ گلگت شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کیمروں کے نظام کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جعلی شناختی کارڈز کے خلاف تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔نگران وزیر برقیات انجینئر ممتاز نے کہا کہ حکومت بجلی کے بحران کے مستقل حل کے لیے قابلِ عمل اور طویل المدتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ عالم برج، چھل، سکندرآباد اور علی آباد میں گرڈ اسٹیشنز پر کام جاری ہے جبکہ بونجی میں 100 میگاواٹ کے منصوبے پر پیش رفت ہو رہی ہے،
جس میں 82 میگاواٹ سولر بجلی کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جائے گا اور دیامر بھاشا ڈیم کی بجلی بھی اسی نظام میں شامل ہوگی۔ نگران وزیر جنگلات اشرف الدین نے بتایا کہ کابینہ نے رمضان المبارک میں مساجد کو فیول کی فراہمی کی تجویز بھی شفافیت کے خدشات کے باعث مسترد کر دی ہے، جبکہ نگران حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
نگران وزیر راجہ شہباز خان نے کہا کہ چپورسن میں زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے جامع سروے کیا جائے گا اور امداد کی تقسیم کا مؤثر نظام وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گلگت شہر میں سیوریج، فائبر اور گیس لائن کے مسائل کو ایک ہی منصوبے کے تحت حل کیا جائے گا، جبکہ ٹھیکیداروں کے بقایاجات کی مد میں 12 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی جو ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔


