اولمپکس 1992 میں برطانوی ایتھلیٹس کے درمیان کری ایٹین کو ایک ’خفیہ ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے کی باتیں سامنے آئی تھیں۔
اس وقت اسے ایک ایسا قانونی سپلیمنٹ سمجھا جاتا تھا جو پٹھوں کی طاقت اور کارکردگی میں معمولی بہتری لا سکتا ہے۔
آج کری ایٹین سمیت مختلف سپلیمنٹس دنیا بھر کے کھلاڑیوں کی خوراک کا عام حصہ بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیشتر ایلیٹ ایتھلیٹس کسی نہ کسی قسم کے سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تاہم بنیادی ترجیح متوازن غذا، مناسب نیند، تربیت، پانی اور ریکوری کو دینی چاہیے۔
لیورپول جان مورز یونیورسٹی کے پروفیسر گریم کلوز کے مطابق سپلیمنٹس دراصل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آخری اضافی قدم ہیں، نہ کہ بنیادی حل۔
ایتھلیٹس میں پروٹین پاؤڈر، کری ایٹین اور وٹامن ڈی زیادہ مقبول ہیں۔
پروٹین پٹھوں کی مرمت اور افزائش میں مدد دیتا ہے، جبکہ کری ایٹین مختصر اور انتہائی تیز سرگرمیوں، مثلاً اسپرنٹنگ، کے دوران فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔
وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت اور پٹھوں کے افعال کے لیے اہم ہے۔
طویل فاصلے کے ایتھلیٹس کاربوہائیڈریٹ جیلز اور اسپورٹس ڈرنکس بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ مقابلے کے دوران توانائی برقرار رہے۔
اگرچہ قانونی سپلیمنٹس ممنوعہ ادویات سے مختلف ہیں، لیکن ان کے استعمال میں اینٹی ڈوپنگ خطرات موجود ہیں۔
کسی سپلیمنٹ میں غیر اعلانیہ ممنوعہ مادہ شامل ہونے کی صورت میں کھلاڑی کو سزا کا سامنا ہوسکتا ہے، چاہے اس نے اسے جان بوجھ کر استعمال نہ کیا ہو۔
اسی لیے ماہرین تصدیق شدہ مصنوعات، بیچ نمبر اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ کا ریکارڈ رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
ماہرین ’فوڈ فرسٹ‘ اصول کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔
ٹیف جیسے مکمل اناج، چقندر، ہلدی اور دیگر قدرتی غذائیں بھی کھلاڑیوں کو توانائی، غذائیت اور ریکوری میں مدد دے سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ سپلیمنٹس مہنگے بھی ہوتے ہیں اس لیے ماہرین کے نزدیک ان کا استعمال ضرورت اور موقع کے مطابق کرنا زیادہ بہتر ہے۔


