spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
1 June, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بھارت کی انتہا پسندی اور معرکعہ حق

بھارت میں داخلی سیاسی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی جذبات کو ابھارنے کیلئے وقتًا فوقتًا پاکستان مخالف بیانیے کو ایک مؤثر سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارڻی اس بیانیے کی تشکیل میں ہندوتوا کے نظریے کو ایک بنیادی فکری ستون کے طور پر سامنے لائی، جو بھارت کی قومی شناخت کو ایک مخصوص مذہبی اور ثقافتی فریم ورک کے اندر دیکھنے پر زور دیتا ہے۔اسی نظریاتی پس منظر کے باعث ریاست کی پالیسی، سیاسی منظر، فوجی نقطہ نظر اور عوامی بیانیے میں ایک خاص نوعیت کی جذباتی شدت، سختی اور انتہا پسندی دیکھنے کو ملتی ہے۔

بھارتی جنتا پارڻی اپنے سیاسی مفادات کیلئے ہندوتوا کے نظریے کو پاکستان کیخلاف استعمال کرتی ہے۔ اس سیاسی و فکری ماحول میں پاکستان کے ساتھ تعلقات اکثر داخلی سیاسی مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ انتخابی ادوار یا داخلی سیاسی دباؤ کے وقت پاکستان مخالف بیانیہ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ میڈیا کے بعض حلقوں میں بھی اسی رجحان کی بازگشت نظر آتی ہے، جہاں پاکستان کے حوالے سےسخت اور یکطرفہ مؤقف اکثر نمایاں ہوتا ہے۔ اس طرِز عمل کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں اعتماد کی کمی بڑھتی ہے بلکہ دیرپا سفارتی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔

بھارتی جنتا پارڻی کی نظریاتی تشکیل میں راشڻریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) ایک اہم تنظیم کے طور پر دیکھی جاتی ہے، جس نے ہندوتوا کے نظریے کو منظم اور ادارہ جاتی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ نظریہ بھارت کی ریاستی شناخت کو ایک اکثریتی مذہبی اور ثقافتی فریم ورک میں دیکھتا ہے، جس کے اثرات مختلف ریاستی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتےہیں۔

حالیہ دہائیوں میں ممبئی حملے، پڻھان کوٹ واقعے اور پلوامہ حملے جیسے فالس فلیگ آپریشنز نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا۔ ان واقعات کے بعد بھارت کی جانب سے بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے اکثر پاکستان پر فوری الزامات عائد کیے گئے اور یہاں تک کہ بارڈر پر جنگی ماحول بھی پیدا کیا گیا۔ بھارت نے کھیل کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا، خاص طور پر پاکستان کیساتھ کرکٹ کھیلنے سے بھی انکار کر دیا۔ بھارتی میڈیا میں بھی ان واقعات کے بعد جذباتی اور سخت بیانیہ غالب رہا، جس نے نہ صرف عوامی رائے کو متاثرکیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے حوالے سے ایک خاص منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش بھی کی اور پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلانے کیلئے ہر ممکن حربے اختیار کیے۔

بھارت کی فلمی انڈسڻری نے بھی پاکستان کا بائیکاٹ کر دیا۔ان حالات نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزیدبڑھا دیا۔ جواب میں پاکستان نے انتہائی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور تمام مواقع پر اپنے مؤقف میں مستقل مزاجی دکھاتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور غیر

مصدقہ الزامات کو مسترد کیا۔ 22 اپریل 2026 کو پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک اہم موڑ کے طور پر سامنے آیا۔ پہلگام جو کہ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں واقع ہے۔ یہ علاقہ لائن آف کنڻرول (LoC) سے تقریبًا 400 کلومیڻر دور ہے۔ اس لیے بھارت کا یہ کہنا درست نہیں تھا کہ یہ واقعہ پاکستانی سرحد کے قریب پیش آیا، بلکہ دراصل یہ واقعہ کشمیر کے اندرونی حصے میں ہوا۔ اسی وجہ سے یہ سوال

بھی اڻھا کہ اگر یہ علاقہ سرحد سے اتنا دور تھا تو حملہ آور وہاں تک کیسے پہنچے۔ اس واقعے کے بعد بھارت کے حکومتی سیاسی اور سفارتی حلقوں اور میڈیا کے بیانیے میں پاکستانکے خلاف سخت اور جارحانہ ردعمل دیکھنے میں آیا اور بغیر کسی جامع اور آزادانہ تحقیقات کے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا انتہا کو پہنچ گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں سکیورڻی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

لائن آف کنڻرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوا، جبکہ سفارتی سطح پر بھی دباؤ بڑھتا گیا۔ پاکستان نے اس موقع پر واضح مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی واقعے کو بنیاد بنا کر فوری طور پر کسی ملک کو ذمہ دار ڻھہرانا خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستان نے اس واقعے کو آزادانہ، شفاف اورغیر جانبدار تحقیقات سے مشروط کیا اور یکطرفہ الزامات کو مسترد کر دیا۔

پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران 7 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلافعسکری جارحیت ہوئی جسے آپریشن سندور کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران بھارت نے پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں میزائل داغنے شروع کردیئے، جس کے نتیجے میں خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔ اس کارروائی کے دوران مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے ساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں سول آبادی پر بھی میزائل حملے کیےگئے، جن سے کچھ بےگناہ لوگ زخمی اور شہید ہوئے۔ اسصورتحال سے دونوں ایڻمی قوتوں کے درمیان شدید جنگ کاخدشہ بڑھ گیا۔ پاکستان نے بھارت کی اس جنگی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کے جنگی جنون سے آگاہ کیا اور حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ثبوت بھی دیے اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔جب بھارت باز نہ آیا تو اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنی جنگی حکمت عملی کو مزید مؤثر اور مربوط بنایا اور 10 مئی 2025 کو آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا، جس کا مقصد دشمن کے جارحانہ اقدام کا فوری، منہ توڑ اور مؤثر جواب دینا تھا۔ اس آپریشن کے دوران افواِج پاکستان نے اعلٰی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی افواج نے یہ بھی ثابت کیا کہ جدید دور میں جنگیں صرف عددی عسکریقوت سے نہیں بلکہ بہادر قیادت، مضبوط حکمت عملی اور قومی اتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔ آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان نے بھارت کا بھاری نقصان کیا اور یہاں تک کہ بھارت بلبلا اڻھا اور اسکی طاقت کا نشہ ختم ہو گیا، اسے یہ اندازہ ہو گیا کہ فلمی جنگ اور حقیقی جنگ میں بہت فرق ہے آخر بھارت نے گھڻنے ڻیک کر عالمی طاقتوں سے سیز فائر کی درخواست کر دی۔

پاکستان نے عالمی برادری کی سیز فائر کی پیشکش قبول لی۔ اس پوری جنگی کاروائی کے دوران بھارت کی جدید دفاعی صلاحیتوں، بالخصوص فضائی قوت اور ائیر ڈیفنس سسڻم کی عملی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اڻھنے لگے ۔ خاص طور پر بھارت کے جدید جنگی طیاروں بشمول فرانسیسی ساختہ رافیل، تیجہ، دفاعی نظام اور جدید میزائل ڈیفنس سسڻم کی کارکردگی توقعات کے مطابق ثابت نہ ہو سکی، جس نے بھارتی دفاعی حکمت عملی پر بحث کو مزید بڑھا دیا۔ یہاں تک کہ رافیل طیارے بنانے والی فرانسیسی کمپنی کو بھی خسارہ ہوا۔ اسی طرح بھارت کے روسی ساختہ جدید S-400 میزائل ڈیفنس سسڻم کی عملی افادیت اور ردعمل کی رفتار پر بھی سوالات اڻھنے لگے۔ ان واقعات نے بھارتی دفاعی بیانیے میںموجود ”ناقابِل تسخیر عسکری طاقت“ کے تصور کو چیلنج کیا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی تکنیکی تیاریوں کے حوالے سے مختلف آراء اور شکوک کو جنم دیا۔ ان تمام واقعات سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی اور عالمی سطح پر اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس پورے تناظر میں یہ بات نمایاں ہوئی کہ جدید جنگی ماحول میں صرف ہتھیاروں کی موجودگی اور عددی برتری کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کی عملی انڻیگریشن، کمانڈ سسڻم، ریئل ڻائم ردعمل اور آپریشنل کوآرڈینیشن، فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق اس بحران کے دوران بھارتی عسکری ڈھانچے کو نہ صرف تکنیکی بلکہ اسڻریڻجک سطح پر بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس کی روایتی طاقت کے دعوے مزید تنقید کی زد میں آئے۔

بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال نے بھارت کے دفاعی نظام کی ”پرفارمنس گیپ“ کو نمایاں کیا، جہاں جدید ڻیکنالوجی اور عملی نتائج کے درمیان فرق واضح ہوتا دکھائی دیا۔ اس کے نتیجے میں خطے میں عسکری توازن کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوئی اور جنوبی ایشیا کے سکیورڻی اسڻرکچر کو نئے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ دوسری طرف پاکستان نے اس پورے بحران کے دوران اپنےدفاعی ردعمل، کمانڈ اینڈ کنڻرول سسڻم اور اسڻریڻجک نظم و ضبط کے ذریعے ایک مربوط اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود آپریشنل سطح پر بہتر ہم آہنگی اور فیصلہ سازی کے ذریعے اپنی دفاعی ساکھ کو مضبوط کیا۔ آپریشن بنیان المرصوص کو معرکȕ حق قرار دیا گیا یعنی کہ ایسا معرکہ جس میں حق اور سچ کی فتح ہوئی۔ معرکعہ حق جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہ معرکہ نہ صرف ایک سبق آموز فوجی کارروائی کا اظہار تھا بلکہ اس نے خطے میں طاقت کے توازن اور اسڻریڻجک سوچ کو بھی نئی جہت دی۔ اس آپریشن کو ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں پاکستان نے منظم منصوبہ بندی، مؤثر کمانڈ اسڻرکچر اور مربوط دفاعی حکمت عملی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ پاکستان کی افواج اپنی قوم کے لیے عزم، حوصلے اور قومی غیرت کی ایک روشن مثال ہیں۔ معرکعہ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نے اپنے سے بڑی جنگی قوت کے مقابلے میں جس حکمِت عملی، صبر اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ معرکہ ثابت کرتا ہے کہ اگر قوم متحد ہو اور قیادت مضبوط ہو تو بڑے سے بڑادشمن بھی مات کھا سکتا ہے۔

معرکعہ حق صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ قومی شعور، دفاعی خود اعتمادی اور حب الوطنی کی علامت ہے۔ یہ آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کے دفاع میں ثابت قدمی ہی اصل کامیابی ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ معرکعہ حق عسکری کامیابی کیساتھ ایک اسڻریڻجک سبق بھی ہے، جو آنے والے وقتوں میں خطے کیلئے عسکری اور سیاسی اعتبار سے ایک واضح اورڻھوس حقیقت ہو گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں