spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

حضرت جمشید خان دکھی کی چوتھی برسی

یہ نومبر 2018 کی بات ہے جب راقم اے پی ایس بونجی میں بطور معلم اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اس دوران یومِ اقبال کی مناسبت سے این ایل آئی سنٹر بونجی میں ایک تقریب منعقد کرنے کے لیے پرنسپل محترمہ زینب شاہین نے مجھے گلگت کے چند نامور شعراء کو پروگرام میں بطورِ مہمان مدعو کرنے کا ٹاسک دیا۔ اس وقت میری کسی بھی بڑے شاعر سے کوئی خاص شناسائی نہیں تھی۔مسینجر پر شاہ جہان مضطر صاحب کے ذریعے جناب جمشید خان دکھی کا رابطہ نمبر حاصل کرنے کے بعد اگلے روز گلگت آیا اور جمشید دکھی صاحب کو فون کیا۔ سلام دعا کے بعد میں نے اپنا تعارف کرایا اور یوم اقبال کے حوالے سے مختصراََ دکھی صاحب سے گفت وشنید ہوئی۔ جمشید صاحب اس وقت قراقرم یونیورسٹی کے کسی پروگرام میں مصروف تھے اور مجھے وہاں سے فارغ ہوتے ہی رابطہ کرنے کا کہہ کر فون کاٹ دیا۔ میں سمجھا کہ دکھی صاحب اب دوبارہ فون نہیں کریں گے، وہ کوئی بہانہ بنائیں گے۔ مگر میرا اندازہ اس وقت غلط نکلا جب ایک گھنٹے کے بعد جمشید صاحب کی کال آئی اور کہنے لگے کہ میں ڈار پلازہ کے آس پاس ہوں آپ وہاں آجائیں۔ بیس منٹ بعد جب میں ڈار پلازہ پہنچا تو دکھی صاحب بغل میں اخبار دبائے سامنے سے تشریف لارہےتھے۔ دکھی صاحب تو مجھے نہیں پہچانتے تھے جبکہ انہیں پوری دنیا جانتی تھی اس لیے مجھے بھی پہچاننے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔سلام دعا کے بعد مجھے حاجی رمضان ہوٹل میں چائے پلائی اور اسی دوران جب اسکول میں یوم اقبال کے حوالے سے پروگرام کا تذکرہ کیا تو بہت خوشی کے ساتھ بونجی آنے کا وعدہ کیا اور فرمانے لگے کہ اقبال کو میں اپنا امام مانتا ہوں۔ ان کے نام پر آپ پہاڑ کی چوٹی پر بھی آنے کا کہیں گے تو میں حاضر ہوجاؤں گا۔ تین دن بعد 9 نومبر کو صبح نو بجے دکھی صاحب غلام عباس نسیم صاحب کے ہمراہ بونجی پہچ گئے اور اس تقریب کو دونوں صاحبان نے چار چاند لگا دئیے۔ یہ جمشید خان دکھی صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی اور اس پہلی ملاقات میں ہی جمشید خان دکھی صاحب کی شخصیت سے میں متاثر ہوا یوں دھیرے دھیرے ان کے ساتھ یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ دکھی صاحب اکثر سپہر کو یوتھ ہوسٹل جوٹیال آتے تھے اور وہاں ان سے ملاقات کے دوران ادبی گفتگو ہوتی۔ پھر وہاں سے چہل قدمی کرتے ہوئے باب۔گلگت تک چلے جاتے کبھی کھبار عبدالخالق تاج صاحب بھی ہمارے ساتھ آجاتے تھے۔ پیدل چلنے میں دکھی صاحب بالکل بھی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔جوٹیال اور کشروٹ کی گلییوں میں ہم دونوں نے خوب چہل قدمی کی۔اکثر جوٹیال سے بازار تک دونوں پیدل پہچ جاتے تھے۔ جوٹیال، برمس پیدل ٹریک سے دو مرتبہ دکھی صاحب کے ہمراہ پیدل جانے کا اتفاق ہوا اور حضرت اس قدر فٹ تھے کہ مجھ سے تیز چلتے اور سانس انہیں بالکل بھی نہیں چڑھتی تھی۔شہر سے کہیں دور جانا ہوا تو جناب احمد سلیم سلیمی کو فون ملاتے اور پروگرام کے بارے میں آگاہ کرتے ہی سلیمی صاحب فورا گاڑی لے کر حاضر ہوتے اور دنیور سے غلام عباس نسیم صاحب کو پیک کرکے کبھی گورو, کبھی راکاپوشی ویو پوائنٹ اور کبھی کبھار مناپن نگر سے ہوتے ہوئے واپس آتے۔ گاڑی میں دکھی صاحب فرنٹ سیٹ پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے سلیمی صاحب کی گاڑی میں کلاسیکی شاعری سے محظوظ ہوتے اور بیچ میں اپنی شاعری بھی سناتے۔

جمشید خان دکھی جتنے بڑے شاعر و ادیب تھے اس سے کئی زیادہ ایک بہترین انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو ایک عظیم انسان میں ہونی چاہیں,لاکھ کوشش کے باوجود ان کی کوئی خامی مجھے نظر نہیں آئی۔خطے میں امن, پیار ,محبت اور اخوت کی فضا برقرار رکھنے کی کوشش زندگی بھر کرتے رہے اس لیے تمام مکاتب۔فکر کے لوگ آپ کی دل سے عزت کرتے تھے۔تعصب ان کے اندر دور دور تک موجود نہیں تھا,ہر رنگ نسل اور عقیدے کے لوگوں کو یک نگاہ سے دیکھنے کے قائل تھے۔ حسد بغض و عداوت سے کوسوں دور اس خوب صورت روح میں انسانیت سے پیار کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ بار بار اپنے سینے کے بائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر اس دنیا و آخرت میں عزت و کامرانی چاہتے ہو تو یہ جگہ یعنی اپنے دل کو صاف رکھو۔صوم و صلوٰۃ کے سخت پابند تھے جہاں نماز کا وقت ہوا وہیں فورا نماز ادا کرتے,محتاجوں کی مدد سب سے چھپا کرکرتے تھے اور ہر جمعرات کو اپنے چند دوستوں سے مل کر جوٹیال میں باقاعدہ لنگر کا اہتمام بھی کرتے تھے۔سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں ان کا شمار ہوتا تھا اور فلاحی کاموں میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے تھے۔

گلگت میں شاید ہی کوئی ایسا جنازہ ہوا ہو جہاں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔مجھے ایسی ایسی جگہوں میں تعزیت کے لیے ساتھ لے کے گئے جہاں میں کسی کو نہیں جانتا تھا, آپ کہتے تھے کہ آج ہم یہاں تعزیت کے لیے نہیں جائیں گے تو کل ہمارے لیے کون آئے گا۔ خلوص اس قدر ان میں زیادہ پائی جاتی تھی کہ ایک ہفتے تک اگر فون پر رابطہ نہیں ہوا ہو یا ملاقات نہیں ہوئی ہو تو خود کال کرتے اور کہتے کہ کبھی کبھار حال چال بھی پوچھا کرو زندگی کا کیا بھروسا ہے۔میں شرمندہ ہوتا اور دکھی صاحب ہمیشہ اسی طرح حال پوچھتے رہتے۔ذوالفقار آباد میں میری دکان پر اکثر تشریف لاتے اور گھنٹہ سوا گھنٹہ گپ شپ کے بعد اپنے گھر کی طرف نکل پڑتے۔ ان کا یہ معمول تھا کہ صبح جوٹیال اپنے دولت کدے سے نکلتے اور شہر میں یار دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد شام کو واپس گھر پہچ جاتے۔ لوگوں کے غم خوشی میں ہر وقت حاضر ہوتے اور بیماروں کی تیماداری کا بھی خاص خیال رکھتے۔سخاوت میں دکھی صاحب کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ گاڑی کا کرایہ ادا کرنا ہو یا ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد بل دینا وہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلنے دیتے اور سب سے پہلے بل ادا کر کے مسرت محسوس کرتے تھے۔

راقم کی شادی کے حوالے سے آخری وقت تک بہت فکر مند رہے۔اکثر ملاقاتوں میں سلام دعا کے بعد ہی پوچھتے کہ نیازی شادی کب کرنی ہے, میں مختلف بہانوں سے ٹالتا رہتا مگر دکھی صاحب ہربار مجھے سمجھاتے کہ انسان کو وقت پر شادی کرلینی چاہیے۔میں دکھی صاحب سے ان کی کتابیں منظر پہ نہ لانے کا شکوہ کرتا تو موضوع بدلنے کی کوشش کرتے ایک مرتبہ کچھ زیادہ ہی تنگ کیا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ جب تک آپ شادی نہیں کریں گے میں کوئی کتاب منظر پر نہیں لاؤں گا۔افسوس میں دکھی صاحب کی زندگی میں شادی نہیں کرسکا جبکہ دکھی صاحب اپنی کتابیں منظر عام پر نہیں لا سکیں۔

بیماری سے چند دن قبل اپنے صاحبزادے ذیشان کے ہمراہ میری دکان کے باہر گاڑی روک کر مجھے آواز دی میں باہر گاڑی کے پاس پہنچا اور خیریت دریافت کی تو کہنے لگے کہ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں اس لیے ڈاکٹر کے پاس جارہا ہوں، میں نے چائے کی پیشکش کی تو اپنے منفرد انداز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگےکہ آپ نے چائے پلا پلا کے میرا ہاضمہ خراب کیا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد آپ اسلام آباد علاج کے لیے گئے اور ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق جب واپس گلگت پہنچے تو حلقہءارباب۔ذوق کے احباب کے ہمراہ دکھی سے ملنے ان کے گھر گئے جب ان کے کمرے میں پہنچے تو جمشید صاحب سخت بیماری کی حالت میں بھی نماز پڑھ رہے تھے۔نماز سے فارغ ہوتے ہی ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ہم سب کو گلے لگایا اور کافی باتیں کیں۔ اس کےہر دوسرے دن احمد سلیم سلیمی صاحب کے ہمراہ دکھی صاحب کی خدمت میں حاضری دیتے؛ کبھی کھبار نیت شاہ قلندر صاحب بھی ساتھ آتے تھے۔وفات سے ایک دن پہلے جب سلیمی صاحب کے ہمراہ دکھی صاحب سے ملنے ان کے گھر پہچ گئے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان کی صحت بہت زیادہ بگڑ چکی تھی دکھی صاحب کو تیماداروں کے رش کی وجہ سے دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیا تھا۔ اس دن دکھی صاحب کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔ ان کے چاروں صاحبزادے باری باری ان کے سرہانے بیٹھتے اور اپنے والد کا سر دباتے ہوئے انہیں مہمانوں کے بارے میں آگاہ کررہے تھے، مگر دکھی صاحب بہت زیادہ تکلیف میں تھے۔سلیمی صاحب زارو قطار رونے لگے اور ہم دونوں کا نام لے کر دکھی صاحب کے بیٹوں نے انہیں بتایا کہ سلیمی بھائی اور نیازی آپ سے ملنے آئے ہیں۔ ہمارا نام سنتے ہی اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر بڑی مشکل سے صرف ایک آنکھ وہ بھی آدھی کھول سکے۔ مہمانوں کا رش زیادہ تھا اور دکھی صاحب کی صحت بہت خراب تھی ہم گھر والوں سے اجازت لے کر وہاں سے نکل گئے۔سلیمی صاحب اس قدر فکرمند ہوئے تھے کہ باہر نکلتے ہی روتے ہوئے کہنے لگے کہ نیازی بھائی مجھے نہیں لگتا کہ دکھی صاحب ہمیں دوبارہ مل سکیں گے اور واقع ایسا ہی ہوا۔
اگلے دن یعنی 20 فروری 2022 کو رات آٹھ بجے کے قریب جمشید خان دکھی اپنے تمام چاہنے والوں کو ہمیشہ کے لیے دکھی کر کے اس دنیا سے اوجھل ہوئے۔دکھی صاحب کی آج تیسری برسی ہے وہ ظاہری طور پر ہم سے جدا ہوئے ہیں مگر سب کے دلوں میں آپ کی یادیں آج بھی اسی طرح موجود ہیں۔ آپ جیسے نابغہ روزگار ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ دکھی صاحب کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب کرے آمین۔

رحمان تجھ پہ سایہء لطف و کرم کرے
جنت کی راحتیں بھی لحد میں بہم کرے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں