فیفا ورلڈکپ 2026 کے دوران سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کیخلاف نسلی تعصب پھیلنے سے متعلق اہم انکشاف ہوا ہے۔
نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورلڈکپ کے دوران انگلینڈ کے فٹبالرز کے خلاف سوشل میڈیا پر نسلی تعصب پر مبنی مواد کو ایسے الگورتھمز نے مزید پھیلایا جو صارفین کی انگیجمنٹ اور پلیٹ فارم کے منافع میں اضافے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
گروپ ’ہوپ ناٹ ہیٹ‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ورلڈکپ کے دوران تین لاکھ سے زائد پوسٹس کا جائزہ لیا جن میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے والی 5500 سے زیادہ واضح طور پر نسل پرستانہ پوسٹس سامنے آئیں۔
تحقیق کے مطابق جوڈ بیلنگھم سب سے زیادہ نسلی تعصب کا نشانہ بنے جبکہ بوکایو ساکا اور کوبی مینو کو کا ذکر کرنے والی پوسٹس میں نسل پرستانہ مواد کا تناسب زیادہ تھا۔
مسلمان ہونے والے اسپینس کو بھی اسلام مخالف نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔
تحقیق کے مطابق غصہ اور اشتعال پیدا کرنے والی پوسٹس زیادہ ردعمل حاصل کرتی ہیں جس سے صارفین پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزارتے ہیں اور بالآخر اشتہاری آمدنی بڑھ سکتی ہے۔
انگلش فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں کو آن لائن نفرت انگیز اور امتیازی مواد سے محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے۔
ہوپ ناٹ ہیٹ نے مطالبہ کیا کہ نفرت انگیز مواد کو تیزی سے پھیلانے والے الگورتھمز کو محدود کیا جائے اور بڑے کھیلوں کے مقابلوں کو ’ہائی رسک‘ ایونٹس قرار دیا جائے۔


