spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
9 July, 2026
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 26-2025 کی آڈٹ رپورٹ جاری کر دی جس میں وزارت داخلہ اور اس کے ذیلی محکموں میں اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات کی نشاندہی کی ہے، رپورٹ میں وزارت داخلہ کے ذیلی محکموں کی جانب سے 4 ارب روپے سے زائد کی عدم ریکوری کا انکشاف ہوا ہے، وزارت داخلہ سیکیورٹی کمپنیز سے تجدید کی فیس، پرمٹ اور اسلحہ لائسنس کی فیس بھی وصول کرنے میں ناکام رہا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ بلٹ پروف گاڑیوں کے پرمٹ کی مد میں 2 کروڑ 24 لاکھ روپے کی فیس اور جرمانے وصول نہیں کیے گئے جبکہ ایسی 164 گاڑیوں کے این او سیز کی سالانہ فیس بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوئی، 3,421 اسلحہ لائسنسوں کی 5 کروڑ 62 لاکھ روپے فیس بھی خزانے میں نہیں جمع ہوئے، ممنوعہ بور اسلحہ لائسنسز کے ڈیٹا میں سنگین خامیاں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کل 25 ہزار 516 اسلحہ لائسنسوں میں سے 16 ہزار سے زائد لائسنس ممنوعہ بور کے ہیں، اور ان کے اجراء کے ڈیٹا میں شدید خامیاں پائی گئی ہیں۔ آڈٹ حکام نے اسلحہ لائسنسوں کو مینوئل بک سے مشین ریڈ ایبل (ڈیجیٹل) نہ کرنے پر بھی سخت اعتراض اٹھایا ہے۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے کی جانے والی خریداریوں میں 2 ارب 58 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح محکمے کے اندرونی چیک اینڈ بیلنس کے نظام میں خرابیوں پر 41 کروڑ روپے سے زائد کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ 29 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی بھی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے،آڈٹ پیرا میں کہا گیا ہے اس اعتراض پر وزارت داخلہ نے جواب میں کہا ہے کہ یہ فیس جمع کرنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری میں نہیں آتا، تاہم آڈیٹر جنرل کے اس جواب کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وزارت داخلہ کی ہی ذمہ داری تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

انسانی حقوق کے اداروں کا انتہا پسند طالبان رجیم سے روابط پریورپی یونین کوانتباہ

عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے انتہا پسند طالبان رجیم سے روابط پریورپی یونین کوانتباہ دیا گیا ہے۔

افغانستان پرقابض طالبان رجیم  کےسخت گیراورانتہا پسندانہ اقدامات پرعالمی ادارے اورانسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان رجیم کوانسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے باعث اب تک باضابطہ طور پرکسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے یورپی یونین کے طالبان مذاکرات پرتنقید کرتے ہوئے  کہا کہ یورپی یونین نے افغان  طالبان کے بدترین انسانی حقوق ریکارڈ کے باوجود اس رجیم کے ساتھ مذاکرات کیے۔ افغان طالبان رجیم نے میڈیا کی آزادی سلب کرلی اورمخالفین وانسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریاں کی ہیں۔

تنظیم کے مطابق طالبان نے خواتین کی ثانوی واعلیٰ تعلیم پرپابندی لگا دی ہے جبکہ روزگاراورنقل وحرکت بھی انتہائی محدود کردی گئی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اورعملی روابط میں تضاد نمایاں ہے۔

یواین میں ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی طالبان رجیم کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ  افغانستان کی خواتین اورلڑکیوں کوعوامی زندگی سے خارج  کرکے ان کی آوازوں کو دبا دیا گیا ہے۔

 عالمی اداروں کی تنقید سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اب غاصب طالبان رجیم کے حوالے  سےکسی سمجھوتے پرتیارنہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں