spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
21 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

آئی ایم ایف کی مزید 11 نئی شرائط، پاکستان کی عملدرآمد کی یقین دہانی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت مزید 11 نئی اور سخت شرائط عائد کر دی ہیں جس پر حکومت کی جانب سے مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران آئی ایم ایف کی مجموعی شرائط کی تعداد بڑھ کر 75 تک پہنچ چکی ہے، جو ملک میں جاری اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے مرتب کی گئی ہیں۔ ان اصلاحات کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بجٹ 2026-27 آئی ایم ایف کے طے کردہ اہداف کے مطابق منظور کیا جائے گا جس میں مالی خسارہ کم رکھنے اور شرح نمو کا محتاط ہدف مقرر کرنے کی شرط شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2027 تک اسپیشل اکنامک اور ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں جبکہ ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کر کے 2035 تک مکمل خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں فروخت سے روکنے کی شرط بھی شامل ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اضافے اور ماہانہ و سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اسی طرح جون 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے آڈٹ نظام کو مزید سخت اور مرکزی بنانے کی ہدایت دی ہے جبکہ بغیر مقابلے کے سرکاری ٹھیکوں کے خاتمے اور متعلقہ قوانین میں ترمیم بھی شرائط کا حصہ ہے۔

سماجی تحفظ کے شعبے میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی امدادی رقم 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے،جس کا اطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق آئی ایم ایف اب تک پاکستان کو اس پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے جبکہ چوتھی قسط جس کی مالیت 1 ارب ڈالر ہے مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں