spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
20 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بلڈ پریشر کتنا کم رکھنا بہتر ہے؟ نئی تحقیق نے بتادیا

نئی تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کو 120 سے نیچے رکھنا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس کے کچھ ضمنی اثرات ہیں لیکن یہ طریقہ زیادہ جانیں بچاسکتا ہے اور لاگت کے لحاظ سے بھی قابلِ قبول ہے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل قرار دیا جائے تو کم نہیں کیونکہ یہ خون کی شریانوں، دل، دماغ، گردوں اور آنکھوں سمیت جسم کے دیگر اعضا پر دباﺅ بڑھاتا ہے۔

مسلسل ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنا جان لیوا امراض جیسے دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک، فالج، دماغی تنزلی اور گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

میس جنرل بریگھم کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلڈ پریشر کو معمول سے زیادہ کم کرنے کے فوائد پہلے کے خیال سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔ محققین نے مختلف مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

تحقیق میں کیا کیا گیا؟

محققین نے تین مختلف سطحوں پر بلڈ پریشر کے اہداف کا جائزہ لیا، 120 سے نیچے، 130 سے نیچے اور 140 سے نیچے۔

انہوں نے یہ دیکھا کہ کن سطح پر دل کے دورے، فالج اور دل کی دیگر بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی بلڈ پریشر کی دوائیوں کے ممکنہ مضر اثرات جیسے گرنا، گردے کی چوٹ، بلڈ پریشر کا بہت کم ہوجانا اور دل کی رفتار کا سست ہونا بھی مدِ نظر رکھا گیا۔

نتائج کیا نکلے؟

تحقیق کے مطابق 120 سے نیچے بلڈ پریشر رکھنے والوں میں دل کے امراض کی شرح 130 والوں کے مقابلے میں کم تھی۔ البتہ اس گروپ میں دوائیوں کے مضر اثرات زیادہ دیکھے گئے۔

لاگت کا حساب لگایا گیا تو 120 والا ہدف زیادہ بہتر رہا۔ ہر معیاری سال کی زندگی بچانے کے لیے اوسطاً 42 ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے جو کہ عام طور پر قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ کرن سمتھ کے مطابق اس تحقیق سے زیادہ خطرے والے مریضوں اور ان کے ڈاکٹروں کو اعتماد ملے گا کہ وہ بلڈ پریشر کو زیادہ کم کرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نتائج آبادی کی سطح پر لاگو ہوتے ہیں، ہر مریض پر نہیں۔ مریض اور ڈاکٹر مل کر فیصلہ کریں کہ کتنی دوائیں اور کتنا کم کرنا مناسب ہے۔

واضح رہے کہ بلڈ پریشر کو 120 سے نیچے رکھنا دل اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہے لیکن اس کے لیے دوائیوں کے ممکنہ ضمنی اثرات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہ فیصلہ مریض اور ڈاکٹر کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں