spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
26 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ایران کی جانب سے داغے گئے ہر میزائل میں تقریباً 100 کلو وزنی وار ہیڈ شامل تھا

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے دعووں کے باوجود امریکا، اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے ہیں، اور گزشتہ شب بھی ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایران میں بھی توانائی سے متعلق اہم سہولیات پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خاص طور پر اصفہان اور خرم شہر کے علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے تازہ میزائل حملوں میں جنوبی اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ بعض پروجیکٹائلز اسرائیل کے مرکزی حصے میں بھی داخل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹ حملے جاری رکھے ہیں۔

تل ابیب میں ایران کے تازہ میزائل حملے کے بعد متعدد مقامات پر شدید نقصان اور چند زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک عمارت شدید متاثر ہوئی، جبکہ چار افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل ایمرجنسی میڈیکل سروس نے متعدد ٹیمیں وسطی اسرائیل میں جائے وقوعہ پر روانہ کیں تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے اور متاثرہ جگہوں کا معائنہ کیا جائے۔

تازہ فوٹیج میں مرکزی تل ابیب کے علاقے میں بھاری نقصان دکھائی دیا، جہاں گلیوں، گاڑیوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ ریسکیو اہلکار اور پولیس ملبے ہٹانے اور ممکنہ پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ایران کی جانب سے داغے گئے ہر میزائل میں تقریباً 100 کلو وزنی وار ہیڈ شامل تھا، جس سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، آگ بجھانے والی ٹیموں نے فوری کارروائی کی، جس سے نقصان اور ہلاکتیں محدود رہیں۔

تازہ حملوں کے دوران ایران نے ڈیمونا شہر کو بھی نشانہ بنایا، جو اسرائیل کا اہم نیوکلئر سہولتوں کا مرکز ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے جنوبی اسرائیل کو خاص ہدف بنانے کی واضح حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

سعودی عرب نے رات کے وقت مشرقی علاقوں میں 20 سے زائد ڈرونز کو روکا، کویت نے ڈرون اور میزائل حملوں کا جواب دیا، جبکہ بحرین میں الارم سائرن بجائے گئے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں