تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ مائی میں واقع ایک نجی وائلڈ لائف پارک میں سنگین متعدی بیماری پھیلنے کے نتیجے میں کم از کم 72 چیتے ہلاک ہو گئے ہیں، جس نے ماہرین اور جانوروں کے حقوق کے گروپوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ مشہور نجی پارک ٹائیگر کنگڈم میں پیش آیا، جہاں صوبائی محکمہ لائیو اسٹاک نے ابتدائی جانچ میں جانوروں کے خون کے نمونوں میں انتہائی متعدی کینائن ڈسٹیمپر وائرس کی نشاندہی کی ہے، نیز بعض جانوروں میں سانس کے نظام کو متاثر کرنے والا بیکٹیریا بھی پایا گیا۔

صوبائی حکام نے بتایا کہ چیتوں میں بیماری کی علامات جلد پہچاننا دشوار ہوتا ہے، کیونکہ یہ جانور کمزوری یا تکلیف ظاہر نہیں کرتے۔ جب عملے کو بیماری کا ادراک ہوا، تو تب تک انفیکشن بہت تیزی سے پھیل چکا تھا اور کئی چیتے جان کی بازی ہار چکے تھے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پیٹا ایشیا نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چیتے اسی تکلیف دہ ماحول میں ہلاک ہوئے جن میں انہیں رکھا گیا تھا — خوف، قید اور ذہنی دباؤ کی حالت میں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ نجی وائلڈ لائف پارکس میں عالمی معیار کے مطابق فلاحی اور صحتیاتی ضوابط سختی سے نافذ کیے جائیں۔

قومی لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ذمہ داری کا تعین کر کے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور جانوروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے