سماجی و سیاسی ڈومین پر اسٹیئرنگ کمیٹی کا نواں اجلاس، احسن اقبال کی زیر صدارت اہم فیصلے
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت سماجی و سیاسی ڈومین پر ایپکس کمیٹی کی قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کا نواں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزرائے خزانہ،جی بی سے نگران وزیر خزانہ ابرار اسماعیل، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈز، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سیکرٹری پلاننگ، سیکرٹری فنانس ، وی سی پائیڈ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی کا قیام بہتر گورننس ترقیاتی منصوبوں میں مساوات کے ذریعے انتہا اپسندی اور تخریب کاری کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ اجلاس میں اہم فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے لیے یکساں قانون سازی کی جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی قسم کے تعلیمی ادارے خواہ وہ پرائیویٹ اسکول ہوں، مدارس ہوں یا سرکاری تعلیمی ادارے، سب کے لیے ایک یونیورسل قانون ہونا چاہئے تاکہ کسی کو امتیازی سلوک کا شکار ہونے کا احساس نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں انھیں ایک علیحدہ حیثیت میں رکھنے کی وجہ سے ان میں شکوک و شبہات پپیدا ہوتے ہیں۔ انہیں شمولیت کا حصہ بناتے ہوئے قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ وفاقی وزیر کی ہدایت پر ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن وفاقی اور صوبائی سطح پر مدارس، اسکولز اور تکنیکی اداروں کے رجسٹریشن کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرے گا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ وفاق المدارس کے نمائیندگان کا اجلاس بلایا جائے تاکہ اڑان پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں مدارس کو شامل کیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کمیٹی کی ہدایت پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام وائس چانسلرز کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ہاسٹلز میں طلبہ کوصوبائی یا لسانی بنیادوں پر ہاسٹل الاٹمنٹ بند کی جائے اور طلبہ میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے تمام صوبوں سے سٹوڈنٹس کو ملا کر الاٹمنٹ کی جا رہی ہے۔
کمیٹی نے صوبوں کو ملک میں 20 پسماندہ ترین اضلاع کی تیز ترین ترقی کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کرنے کی ہدایت کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ وفاق صوبوں کو ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہا ہے، اب صوبوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پسماندہ اضلاع کو اولین ترجیح دیں تاکہ انہیں مضبوط اور مستحکم اضلاع میں تبدیل کیا جا سکے۔ ان پسماندہ اضلاع میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہمیں برق رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام صوبے پسماندہ ترین اضلاع میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کا آئیندہ پانچ سالوں کا پلان دو ماہ میں پیش کریں گے۔
کمیٹی نے صوبائی حکموتوں کو ہدایت کی کہ ضلعی انتضامیہ اور مقامی قیادت کی سطح پر عوامی رابطہ کو مضبوط کیا جائے تاکہ گورننس میں شراکت داری کے ذریعے عوامی مسائل حل ہو سکیں۔
کمیٹی نے وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو ہدایت دی کہ اقبال کی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں اور جامعات میں اقبال چئیرز مختص کی جائیں۔


