spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

شعری مجموعہ : ” میں کتنا بچتا ہوں”

شعری مجموعہ : ” میں کتنا بچتا ہوں”
شاعر : حبیب الرحمان مشتاق ”
تبصرہ : نیاز نیازی
ادبی تنظیم” فکری تحریک” گلگت بلتستان کے صدر حبیب الرحمن مشتاق صاحب کا تیسرا شعری مجموعہ”میں کتنا بچتا ہوں” مصنہء شہود پر آچکا ہے۔اس سے پہلے موصوف کے دو شعری مجموعے” ہوا نے چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں” اور ” کوئی موجود ہونا چاہتا ہے” نے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کی ہے۔
” میں کتنا بچتا ہوں” کے سرورق پر درخت کی ایک ٹہنی اور پتے بارش کے قطروں کے ساتھ خوب صورت عکس موجود ہے۔ جب کہ کتاب کا فلپ ملک کے نامور ادیب و شاعر جناب جلیل الدین عالی نے لکھا ہے۔ کتاب کے بیک ٹائٹل پر حبیب صاحب کی تصویر بھی آویزاں ہے۔
یہ کتاب معروف پبلشر سانجھ لاہور نے شائع کی ہے، سن اشاعت جولائی 2025ء ہے۔ کتاب کا انتساب حبیب صاحب نے اپنے والد محترم سے منسوب کیا ہے۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب صرف قیمت ایک ہزار روپے

میں نارتھ بکس ایجنسی مدینہ مارکیٹ گلگت میں دستیاب ہے۔
اس کتاب کا نام شاعر نے اپنے اس شعر سے مستعار لیا ہے :

اسے نکال کے خود سے میں کتنا بچتا ہوں
جواب کیا کوئی علمِ ریاضیات میں ہے

کتاب کے آغاز میں مشتاق صاحب نے اپنے ہم نواؤں کا مختصر مگر جامع انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں حمد اور نعتیں شامل ہیں جب کہ اس کتاب میں حبیب صاحب کی پچاسی غزلیں موجود ہیں۔
حبیب الرحمان مشتاق صاحب نہ صرف گلگت بلتستان میں بلکہ پورے پاکستان کے ادبی حلقوں میں اپنے منفرد اسلوب کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں ایک الگ رنگ جھلکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ آپ کے شعر دل سے پسند کرتے ہیں۔ اس کتاب میں مشتاق صاحب نے مختلف موضوعات کو اپنے اچھوتے انداز میں پرکا ہے۔
اللّہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرتے ہوئے حبیب صاحب فرماتے ہیں کہ :

کرے نہ کس لئے مشتاق تیری حمد و ثناء
بزرگ و برتر و بالا بھی پاکباز بھی تو

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف کچھ یوں بیان کرتے ہیں :

لکھنے لگا جو نعت خدا مہرباں ہوا
لفظوں پہ اختیار سو اب خوب ہے مجھے

محبوب سے بچھڑنے کا افسوس ہر عاشق کو ہوتا ہے اور وہ زندگی بھر اپنے محبوب کی یادیں دل فروز تازہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مشتاق صاحب اس حساس موضوع پر کچھ یوں باندھتے ہیں :
اب ایک ماتم ہے اس کنارے اور ایک ماتم ہے اس کنارے
اگرچہ طے یہ ہوا تھا بچھڑے تو آہ و زاری نہیں کریں گے

ہوسکا پھر نہ کبھی دل کا جزیرہ آباد
میرے سینے میں ترے غم کی کسک ایسی تھی

کسی کی یاد سینے سے نکل کر
فغاں بن کر کلس میں آگئی ہے

مغرب والے ہم سے کیسے آگے نکل گئے اور ہماری تنزولی کی وجہ کیا بنی اس موضوع کو تاریخی پس منظر میں مشتاق صاحب کچھ اس بیان کرتے ہیں:

خزانہ علم کا مغرب میں دیکھا ہے جو تو نے
وہ مشرق کی تجوری سے چرا کر لے گئے ہیں

فطرت سے محبت کا اظہار اس کتاب میں جابجا ملتا ہے مشتاق صاحب نے “پرندہ” “شجر” “ثمر” “ہوا” اور “موسم” جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے امن و محبت کا درس عام کرنے کی کوشش کی ہے۔

پرندے اپنے نقصاں کی تلافی چاہتے ہیں
ہوا اور پیڑ سب ان سے معافی چاہتے ہیں

یہ جان کر مرے ماحول کو خوشی ہوئی ہے
شکاریوں کی پرندوں سے دوستی ہوئی ہے

شاعری مجھ کو درختوں کی محبت سے ملی
لب پہ ہر ایک پرندے کے ہیں نغمات مرے

فقط شجر ہی نہیں تھے مرے جنازے میں
مری نماز پرندوں نے بھی ادا کی تھی

اپنی ذات کو پہچاننا بڑا مشکل کام ہوتا ہے مگر حبیب صاحب نے اس کتاب میں لفظ ” میں ” کو بطور علامت شاندار انداز میں پیش کیا ہے:

جہاں پر کچھ نظر آتا نہیں حدِ نظر تک
وہاں پر بھی مرا ہونا دکھائی دے رہا ہے

میں اس کے بعد پھر اپنے لئے بھی بچتا نہیں
اگر میں دل سے تری آرزو نکالتا ہوں

شاعرانہ تعلی کا استعمال کرتے ہوئے حبیب صاحب فرماتے ہیں کہ :
جہانِ شعر میں ممتاز اس لئے بھی ہوں میں
غزل بھی تیری طرح خوب رو نکالتا ہوں

عالمِ غیب سے مشتاق اتر کر یہ غزل
بن کے آیت مرے وجدان میں آئی ہوئی ہے

محنت و مشقت سے ہی انسان کامیاب حاصل کرسکتا ہے اس موضوع کو مشتاق صاحب نے اپنے منفرد انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :
سنا ہے ان کی طرف دوڑتی ہے خود منزل
بدن پہ لے کے جو رستوں کی دھول آتے ہیں

شاعر حساس اور خودار طبیعت کا مالک ہوتا ہے اور اپنی خودی کا سودا کبھی بھی نہیں کرتا حبیب صاحب اس حوالے سے کہتے ہیں کہ :
امیرِ شہر مری بولیاں لگا لیکن
میں بکنے والا نہیں ہوں کسی بھی قیمت پر

اس کتاب میں شاعر نے تلمیحات کا استعمال بھی بہت خوب صورت انداز میں کیا ہے یہ اشعار دیکھیں:

سند ملے گی اسے درس گاہِ صحرا سے
مقالہ قیس نے لکھا ہے میری وحشت پر

چل کر پہاڑ خود مری بیعت کو آئیں گے
اندر کا میرے ان پہ اگر کوہکن کُھلا

انسان کس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہو چکا ہے قدیم اور جدید دور میں کتنا فاصلہ پیدا ہوچکا ہے اس سلسلے میں مشتاق صاحب فرماتے ہیں کہ :
پہلے انسان تھے بستی میں اور اب گھر گھر سے
ایک دستک سے کئی سانپ نکل پڑتے ہیں

فرق اتنا ہے پرانی سے نئی نسلوں کا
اب جو آدم ہے وہ انسان ہوا کرتا تھا

اس شعر سے حبیب صاحب کی دور اندیشی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے :
فارمولہ فاصلوں کا کالعدم ہو جائے گا
راستہ ہر کہکشاں تک اک قدم ہو جائے گا

جب تک بدن میں جان باقی ہے دنیاوی مسائل سے چھٹکارا ممکن نہیں،انسان یہاں الجھنوں سے اس وقت آزاد ہوسکتا ہے جب روح جسم سے پرواز کر جائے:

دنیا کی الجھنوں کو کہا ہم نے الوداع
ہاتھ اپنا جاتے جاتے کفن سے نکال کر
آخر میں حبیب الرحمان مشتاق صاحب کا شکریہ کہ آپ نے اپنا شعری مجموعہ راقم کو بطور تحفہ پیش کیا۔
اللّہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں