معزز سامعین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
وقت کی رفتار کبھی نہیں رکتی، مگر انسان کو یہ موقع ضرور دیتی ہے کہ وہ رُک کر خود کو دیکھ لے۔ نیا سال کوئی مذہبی تہوار نہیں، نہ ہی شور و ہنگامے کا نام ہے، بلکہ اہل فکر کے لیے یہ ایک خاموش لمحۂ محاسبہ ہے، اپنے ماضی کو پرکھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا لمحہ۔
اسلام ہمیں تاریخ کے کیلنڈر سے زیادہ کردار کے کیلنڈر کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں سال بدلنے سے زیادہ انسان کا بدلنا اہم ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ یہی آیت نئے سال کا اصل پیغام ہے خود احتسابی، خود اصلاح اور خود سازی۔
ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ فتنوں، انتشار اور فکری خلفشار کا دور ہے۔ مذہب کو نعرہ بنا لیا گیا ہے، مگر اس کی روح گم ہو چکی ہے۔ عبادات ہیں، مگر اخلاق ناپید۔ دعوے بہت ہیں، کردار کمزور۔ ایسے میں اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ کردار کا نام ہے۔
رسول اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر “ہو”۔
نیا سال ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ کیا ہم واقعی وہ مسلمان ہیں جن کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں؟
کیا ہماری موجودگی امن کا پیغام ہے یا خوف کا سبب؟
اسلام نے انسانی جان کو اس قدر مقدس قرار دیا کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ٹھہرایا۔ یہ تعلیم ہمیں تشدد، نفرت اور انتہاپسندی سے دور لے جاتی ہے۔
آج جب معاشرے میں قانون شکنی کو بہادری سمجھا جاتا ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کی پاسداری بھی ایمان کا حصہ ہے۔ پُرامن شہری بننا کوئی کم تر وصف نہیں بلکہ ایک اعلیٰ دینی فریضہ ہے۔ نظم و ضبط، برداشت اور احترام ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک صحت مند معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔
اسلام ہمیں انتقام نہیں، انصاف سکھاتا ہے؛ نفرت نہیں، رحمت کا درس دیتا ہے، اور خود ساختہ فیصلوں کے بجائے اجتماعی نظم کا پابند بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر طرح کی انتہاپسندی کو رد کرتا ہے اور اعتدال کو اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
محترم سامعین
آج کا نیا سال ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف تاریخ نہ بدلیں، سوچ بدلیں۔ صرف کیلنڈر نہیں، کردار بدلیں۔ ہم عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے استحکام، اور مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں گے۔
سامعین محترم
آئیے، اس نئے سال کو ایمان کی تازگی، کردار کی مضبوطی اور پُرامن شہریت کے عہد کے ساتھ خوش آمدید کہیں۔ یہی پیغام ہے، یہی راستہ، اور یہی وہ ورثہ ہے جو ہمیں ایک بہتر معاشرہ دے سکتا ہے۔
اللہ ہمیں اس عہد پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔


