ہنزہ۔: سوست پورٹ میں ورچوئل کسٹم کورٹ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں بینکنگ اینڈ کسٹم کورٹ کے معزز جج غلام عباس چوپا نے فیتہ کاٹ کر ورچوئل کورٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر سوست سے ویڈیو لنک میں گلگت میں زیر سماعت دو مقدمات پر سماعت بھی کردی افتتاحی تقریب میں کلیکٹر کسٹمز سوست پورٹ شاہد جان، کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسران، عدالتی حکام اور متعلقہ عملے نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینکنگ اینڈ کسٹم کورٹ کے معزز جج غلام عباس چوپا نے کہا کہ عصرِ حاضر جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، جس میں روایتی اور فرسودہ نظام اپنی افادیت کھو چکے ہیں، جبکہ دنیا ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتی ہوئی قانونی ضروریات کے پیش نظر انصاف کی فوری، شفاف اور مؤثر فراہمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ اب ناگزیر ہو چکا ہے
۔انہوں نے کہا کہ سوست پورٹ میں ورچوئل کسٹم کورٹ کے قیام کا بنیادی مقصد کسٹمز سے متعلق مقدمات میں تاجر برادری، درآمد و برآمد سے وابستہ افراد اور سوست پورٹ پر تعینات کسٹمز عملے کو ان کی دہلیز پر سستا، فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔
معزز جج نے واضح کیا کہ اس ورچوئل نظام کے تحت ملزمان کے جسمانی و عدالتی ریمانڈ، مقدمات سے متعلق دستاویزات کی پیشی، جوابِ دعویٰ کی جمع آوری اور شہادت کے اندراج جیسے قانونی مراحل اب بذریعہ ویڈیو لنک مکمل کیے جا سکیں گے،
جس کے لیے گلگت کا طویل اور دشوار گزار سفر درکار نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف موسمی اور سفری مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا بلکہ عدالتی کارروائی میں تاخیر کے اسباب بھی کم ہوں گے اور مقدمات کے بروقت فیصلوں میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کی راہ پر گامزن ہے اور ان عالمی تقاضوں کا مقابلہ اسی صورت ممکن ہے جب ریاستی اور عدالتی ادارے خود کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کریں۔
اس موقع پر کلیکٹر کسٹمز سوست پورٹ شاہد جان نے اپنے خطاب میں سوست پورٹ میں ورچوئل بینکنگ اینڈ کسٹم کورٹ کے قیام پر معزز جج غلام عباس چوپا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ورچوئل کورٹ کے قیام سے کسٹمز مقدمات میں ملزمان کے ریمانڈ، دستاویزات کی بروقت فراہمی اور بیانات کے قلمبند کرنے سے متعلق درپیش ایک اہم انتظامی اور قانونی مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت کسٹمز حکام کو ریمانڈ کے لیے طویل، مہنگے اور مشکل سفری مراحل سے نجات حاصل ہوگی، جس سے نہ صرف قیمتی وقت کی بچت ممکن ہو سکے گی بلکہ قومی خزانے پر پڑنے والے غیر ضروری مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
کلیکٹر کسٹمز نے امید ظاہر کی کہ ورچوئل کسٹم کورٹ کا یہ نظام مستقبل میں انصاف کی فوری فراہمی، شفافیت، ادارہ جاتی نظم و نسق اور قانونی عمل کی بہتری میں ایک مؤثر اور مثبت کردار ادا کرے گا۔


