spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ابراہیم ذوالفقاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر اسرائیلی دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ سفارتکاری کے نام پر زمینی حملے کی تیاری کو چھپا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی پیش قدمی کی گئی تو ایرانی افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور جلد کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ کے خدشات برقرار ہیں۔

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اہم فوجی شاخ خاتم الانبیا فورس کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت یا زمینی حملے کا نتیجہ امریکی فوجیوں کی ’ذلت آمیز قید‘ کی صورت میں نکلے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار ایران کے خلاف زمینی کارروائی اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو امریکی فوجیوں اور کمانڈروں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے امریکا، یورپ اور ایشیا سمیت دنیا کے کئی خطوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے ٹرمپ کو غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

ابراہیم ذوالفقاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر اسرائیلی دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ سفارتکاری کے نام پر زمینی حملے کی تیاری کو چھپا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی پیش قدمی کی گئی تو ایرانی افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور جلد کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ کے خدشات برقرار ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں