spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ابراہیم ذوالفقاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر اسرائیلی دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ سفارتکاری کے نام پر زمینی حملے کی تیاری کو چھپا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی پیش قدمی کی گئی تو ایرانی افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور جلد کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ کے خدشات برقرار ہیں۔

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اہم فوجی شاخ خاتم الانبیا فورس کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت یا زمینی حملے کا نتیجہ امریکی فوجیوں کی ’ذلت آمیز قید‘ کی صورت میں نکلے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار ایران کے خلاف زمینی کارروائی اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو امریکی فوجیوں اور کمانڈروں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے امریکا، یورپ اور ایشیا سمیت دنیا کے کئی خطوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے ٹرمپ کو غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

ابراہیم ذوالفقاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر اسرائیلی دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ سفارتکاری کے نام پر زمینی حملے کی تیاری کو چھپا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی پیش قدمی کی گئی تو ایرانی افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور جلد کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ کے خدشات برقرار ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں