مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیاہے۔پیٹرولیم قیمتوں کا 15 دن کے بجائے ہفتہ وار جائزہ لینے کی تجویز پرغور کیا جارہا ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی بڑھتی عالمی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ آبنائے ہرمزکی بندش کے بعد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، پی ایس او نے پیٹرول اور ڈیزل کے نئے درآمدی ٹینڈرز جاری کردیئے، ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود، قلت نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے متبادل روٹ کے ذریعے تیل فراہمی کی درخواست کر دی گئی، تیل بردار جہازوں کے انشورنس اخراجات میں بڑا اضافہ ہوگیا، حکومت آئل کمپنیوں کو اضافی اخراجات کی ادائیگی پر غور کرے گی۔ پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی 8 ماہ کے ریکارڈ کے مطابق دی جائے گی۔
اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ روکنے کیلئے سخت نگرانی کا بھی فیصلہ کیا گیا، توانائی کی بچت کیلئے ورک فرام ہوم کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ مختلف تجاویز پر مبنی سمری منظوری کیلئے ای سی سی میں پیش کی جائے گی۔
توانائی کی بچت کے لیے قومی ایکشن پلان
ذرائع کے مطابق کرونا دور کی طرز پر آن لائن اور اسمارٹ آفیشل ورکنگ، مارچ میں تعلیمی اداروں کے آن لائن سیشن پر غور شروع کردیا۔ کارپوریٹ سیکٹر میں بھی ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
ٹیلی کام اور آئی ٹی کی کمپنیوں میں بھی ہفتے میں 2 دن آن لائن ورکنگ پر غور ہے، مارچ 2026 میں تمام دفاتر میں صرف ضروری اسٹاف موجود رکھنے کی تجویز ہے۔ مارچ میں تمام دفاتر میں کم از کم اسٹاف کی موجودگی ضروری بنانے، تمام دفاتر میں ممکنہ ملازمین کو ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات دینے پر غور جاری ہے۔
ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ
واضح رہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے باعث ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کو تیل کی فراہمی محدود کر دی ۔ آرڈر کینسل بھی کئےجانےلگے ۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے پیش نظر اضافی کارگوز کا بندوبست کرنے کیلئے متحرک ہوگئی۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ کر نوٹس لینےکی اپیل کر دی ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر او ایم سیز نے پیٹرولیم مصنوعات کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے ۔ آرڈرز میں بار بار تبدیلی اور منسوخی بھی شروع ہوگئی۔ او ایم سیز کو مصنوعی قلت پیدا کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے سے روکا جائے۔
وزارت پیٹرولیم ذرائع کے مطابق پاکستان میں اس وقت 25 دن کا ایندھن موجود ہے ۔ او ایم سیز 20 دن کا ذخیرہ رکھنے کی پابند ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان نے 2 ماہ پہلے پیٹرولیم کا ذخیرہ بڑھانا شروع کیا ۔ جنوری میں او ایم سیز نے 25 دن کا ایندھن ذخیرہ کر لیا تھا۔ فروری میں ذخیرہ مزید 3 دن بڑھایا گیا ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کےپیش نظر حکومت کی اضافی کارگوز کیلئے کوششیں تیز کردی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نےسعودی سفیر سےملاقات کر کے یانبو بندگارہ سے ایک جہاز ایندھن کی یقین دہانی حاصل کر لی۔ ایڈناک سے بھی ایندھن کا ایک جہاز فجیرہ بندرگاہ سے پاکستان آئے گا۔


