spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

روحانیت ، فلسفہ اور ٹیکنالوجی

ترقی کے اس تیز سفر میں ہم ایک ایسے دوراہے پر پہنچ گئے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہمارا انسانی ماضی ہے اور دوسری طرف ایک مشینی مستقبل۔ کچھ لوگ اس ماضی کی محبت سے نکل نہیں پا رہے ہیں اور کچھ مستقبل کے سراب سے۔ آج انسانیت کو جس علم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ توازن کا علم ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کے پروں سے اڑنا تو ہے مگر اپنی جڑیں اس روحانی، وجدانی اور فلسفیانہ مٹی میں پیوست رکھنی ہیں۔ جہاں سے ہمیں محبت، خود شناسی اور ایثار کی نمی ملتی ہے۔ ہمارا سماج اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں ہمیں ماضی کے دریچوں کو صاف کرکے مستقبل کی دھند میں دیکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ انسانی عقلی تاریخ کے دو عظیم ستون یعنی یونانی فلسفہ اور صوفیانہ وجدان ہمیں اس ڈیجیٹل دور کی زحمتوں اور رحمتوں کو منیج کرنے کا سلیقہ سکھا سکتی ہیں اور انسانیت کو درپیش وجودی بحران سے نکلنے کا راستہ دکھا سکتے ہیں ۔

یونانی فلسفہ اس ڈیجیٹل غار (The Modern Cave) سے نکل کر حقیقت کے ادراک حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ افلاطون نے اپنی مشہور تمثیل غار کے قیدی میں بیان کیا تھا کہ لوگ سچائی سے دور دیوار پر پڑنے والے سائے کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ہماری سیلفیاں اور سکرینیں وہ دیواریں ہیں اور الگورتھمز وہ ۔مہیب سائے ہیں جن میں الجھ کر ہم آگاہی اور خودشناسی کی روشنی سے آنکھیں چرا رہی ہیں۔ ہم ایک ایسی ‘ڈیجیٹل غار’ میں قید ہیں جہاں ہمیں وہی دکھایا جاتا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔

یونانی فلسفے کا بنیادی درس Logos یعنی عقلِ سلیم تھا۔ ارسطو اور سقراط نے صدیوں قبل ہمیں یہ بتایا تھا کہ علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ حکمت یعنی Sophia ہے۔ آج ہمارا انٹرنیٹ معلومات سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن انسانی سماج کی اکثریت حکمت سے ناواقف ہے۔ شاید ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم ‘معلومات کے امیرمگر حکمت کے فقیر بنتے جا رہے ہیں۔ یونانی فلسفیوں کے نزدیک انسانی فضیلت اپنے جوہر کو پہچاننے میں تھی جبکہ آج ہم اپنا جوہر مشینوں میں، اشتہارات کی بھرمار میں اور مارکیٹوں میں تلاش کر رہے ہیں۔

اپنے جوہر کو پہچاننے کے لئے ہمیں صوفیانہ وجدان کی ضرورت ہے۔ صوفیا کے ہاں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے: “علمِ سینہ” (وہ علم جو دل پر اترتا ہے) اور “علمِ سفینہ” (وہ علم جو کشتی یعنی کتابوں میں درج ہے)۔ رومی اور ابنِ عربی نے ہمیں بتایا تھا کہ کائنات کا سب سے بڑا راز حروف کے پیچھے چھپی خاموشی میں ہے۔

آج کی ٹیکنالوجی علمِ سفینہ کی معراج ہے۔ جو ڈیٹا حساب کتاب کا ایک سمندر ہے۔ آج ہمارے پاس ڈیٹا تو بہت زیادہ ہے لیکن صوفیانہ نقطہ نظر سے دیکھیں تو انسانیت جس بحران کا شکار ہے وہ فراقِ خودی یعنی اپنی ذات سے بیگانگی ہے۔ ہم نے اپنی ذات کو کائنات کے مجموعی ڈیٹا کا ایک حصہ سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ صوفیانہ حکمت کہتی ہے کہ تو ہی وہ کتاب ہے جسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ تو ہی وہ سچ ہے جو کسی کتاب میں نہیں اور وہ سچ آپ کے اندر کی وہ روشنی ہے جو تب بھی باقی رہتی ہے جب تمام بیٹریاں ختم ہو جاتی ہیں اور تمام سگنلز دم توڑ دیتے ہیں۔

آج کے دور میں فلسفہ اور روحانیت اس لئے بھی اہم ہیں کہ وہ ہمیں خود سے جڑنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نفسیاتی طور پر یونانی کتھارسیس یعنی تطہیرِ نفس اور صوفیانہ تزکیہ نفس دونوں کا مقصد انسان کو اس کے اصل سے جوڑنا تھا۔ آج کا انسان الیکٹرانک تنہائی کا شکار ہے۔ ہم پوری دنیا سے جڑے ہیں مگر خود سے کٹ چکے ہیں۔ آج ہمارے لئے یہ سمجھنا اہم ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری ضرورت ہے اور وجدان ہماری حقیقت۔ اگر ہم نے اپنی عقل کو مصنوعی ذہانت کے حوالے کردیا اور اپنے دل کو سوشل میڈیا کے لائکس کے تابع کر دیا تو ہم وہ آفاقی انسان کھو دیں گے جس کا خواب سقراط نے دیکھا تھا اور جس کی تصویر رومی اور ناصر خسرو کے اشعار میں ملتی ہے۔

تویی جان سخنگوی حقیقی

که با روح القدس دائم رفیقی

کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کیا تھے۔ ڈیٹا ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ لیکن صرف ہمارا شعور یہ جان سکتا ہے کہ ہم کیا ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم مشین کے پرزے نہیں بلکہ کائنات کا وہ دھڑکتا ہوا دل ہیں جس کے لئے یہ سارا تماشہ رچایا گیا ہے۔ جس دن انسان اپنی حیرت (wonderment) کو مشینوں سے بچا لے گا۔ اسی دن وہ اس ڈیجیٹل عہد پر غالب آ جائے گا۔ کیونکہ مشین حل تو دے سکتی ہیں مگر وہ حیرت، مسرت، غم ، خوشی اور لافانی محبت کا تجربہ نہیں دے سکتیں۔ یاد رکھیں روحانیت تسبیح لیکر کسی کونے میں بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ ذات اور کائنات کے اسرار ، معنی اور حقیقت کو کھوجنے کا سفر ہے۔ جس کا آغاز بقول عطار وادی جستجو سے ہوتی اور وادی حیرت ، وادی سمجھ ،اور وادی فراق سے ہوتی ہوئی وادی محبت اور وادی وحدت میں لے جاتی ہے ۔ اگر تعلیم کے جدید جارگن میں یہی بات کی جائے تو love , curiosity, compassion, meaning making اور human unity کو روحانیت سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

نوٹ : کالم نگار مذہبی سکالر اور تعلیمی شعبے سے منسلک ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں