spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ایکریڈیشن کارڈ کا اجراء صحافت کو شناخت اور تحفظ کی سمت ایک اہم قدم

گلگت بلتستان میں صحافت کا سفر اگرچہ آسان نہیں رہا لیکن جغرافیائی دوری، محدود وسائل، حساس سماجی و سیاسی ماحول اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باوجود گلگت بکتستان کے صحافیوں نے عوام اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے حالات میں محکمہ اطلاعات حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے صحافیوں کیلئے ایکریڈیشن کارڈ کے اجراء کا اقدام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ صحافت کے شعبے کو باقاعدہ شناخت، تحفظ اور وقار فراہم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت وقت صحافیوں کے کردار، مسائل اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور انہیں قومی دھارے کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کی خواہاں ہے۔

سینٹرل پریس کلب گلگت میں منعقدہ تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام اور صحافی تنظیموں کی شرکت نے اس اقدام کی اہمیت کو دوچند کر دیا۔ نگراں وزیر اطلاعات غلام عباس، سیکریٹری انفارمیشن ثناء اللہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے بیانات سے یہ واضح ہوا کہ حکومت صحافیوں کو محض خبر دینے والا طبقہ نہیں بلکہ جمہوری نظام کا ایک اہم ستون سمجھتی ہے۔ ایکریڈیشن کارڈ کا اجرا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلگت بلتستان سیاسی اور انتخابی مراحل کے قریب ہے، جہاں آزاد اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ایکریڈیشن کارڈ کا بنیادی مقصد صحافیوں کو ایک مستند اور باقاعدہ شناخت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔ ماضی میں گلگت بلتستان کے صحافیوں کو اکثر شناخت اور رسائی کے مسائل کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث ان کے کام میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں ایکریڈیشن کارڈ نہ صرف ان مسائل کا حل فراہم کرتا ہے بلکہ صحافت کے شعبے کو ایک منظم فریم ورک میں لانے کی جانب بھی ایک قدم ہے۔ اس کے ذریعے اہل اور پیشہ ور صحافیوں کو الگ پہچان ملے گی، جبکہ غیر ذمہ دار عناصر کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے گی۔

نگراں وزیر اطلاعات غلام عباس کا یہ کہنا کہ صحافیوں کے مسائل، مطالبات اور گرانٹس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ انڈومنٹ فنڈ میں اضافے کا اعلان اور صحافیوں کی فلاح و بہبود پر توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت صحافیوں کو محض وقتی سہولت دینے کے بجائے طویل المدتی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایسے اعلانات کا اصل امتحان ان پر عملی درآمد میں ہوتا ہے، جس کیلئے مسلسل نگرانی اور شفافیت ناگزیر ہے۔
سیکریٹری انفارمیشن ثناء اللہ کے مطابق ایکریڈیشن کارڈ صحافیوں کیلئے پروفیشنل شناخت کا ذریعہ بنے گا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ دنیا بھر میں صحافیوں کی شناخت اور رجسٹریشن کے باقاعدہ نظام موجود ہیں، جو نہ صرف صحافیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں اس نظام کا آغاز اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں صحافت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پریس کلبز کے قیام کیلئے 10 کروڑ روپے کے انڈومنٹ فنڈ کا اعلان بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جو صحافیوں کیلئے اجتماعی سرگرمیوں، تربیت اور پیشہ ورانہ مکالمے کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ صحافت صرف سہولیات کا نام نہیں بلکہ ذمہ داریوں کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں جہاں سیاسی، سماجی اور علاقائی مسائل پیچیدہ نوعیت کے ہیں، وہاں صحافیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر کی درستگی، توازن اور غیر جانبداری کو مقدم رکھیں۔ سیکریٹری انفارمیشن کا یہ کہنا کہ الیکشن کے قریب صحافیوں کو ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ایک بروقت اور اہم یاددہانی ہے۔ حکومت اور میڈیا کے درمیان مثبت اور تعمیری تعلق ہی معاشرے میں استحکام اور آگاہی کو فروغ دے سکتا ہے۔

ترجمان نگراں وزیر اعلیٰ شبیر میر کی جانب سے صحافت کے فروغ اور صحافیوں کے تحفظ کو اولین ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان ایک مثبت اشارہ ہے۔ تاہم تحفظ کا تصور صرف جسمانی سلامتی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں قانونی تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی اور پیشہ ورانہ خودمختاری بھی شامل ہونی چاہیے۔ ایکریڈیشن کارڈ اگر درست اور شفاف طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ صحافیوں کے تحفظ اور ان کی پیشہ ورانہ آزادی کے درمیان توازن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
محکمہ اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فاروق احمد کی جانب سے ایکریڈیشن کارڈز کی تیاری اور اجراء میں شفافیت اور مربوط حکمت عملی پر زور دینا خوش آئند ہے۔ ایک واضح اور منصفانہ طریقۂ کار ہی اس نظام کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اگر ایکریڈیشن کا عمل غیر جانبدار، میرٹ پر مبنی اور سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے تو یہ نہ صرف صحافیوں بلکہ اداروں اور عوام کیلئے بھی فائدہ مند ہوگا۔

صحافی تنظیموں کی جانب سے اس اقدام کو سراہنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ فیصلہ زمینی حقائق اور صحافی برادری کی ضروریات کے مطابق کیا گیا ہے۔ تاہم مستقبل میں ضروری ہے کہ حکومت اور صحافی تنظیمیں مل کر اس نظام کا جائزہ لیتی رہیں اور اس میں بہتری کیلئے تجاویز پیش کریں۔ صحافت ایک متحرک شعبہ ہے، جسے بدلتے حالات اور ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا وقت کی ضرورت ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سکریٹری اطلاعات جی بی ثناءاللہ صاحب اور حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے ایکریڈیشن کارڈ کا اجراء گلگت بلتستان میں صحافت کے شعبے کو مضبوط، منظم اور باوقار بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اگر اس اقدام کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی تربیت، فلاح و بہبود، قانونی تحفظ اور اظہارِ رائے کی آزادی کو بھی یقینی بنایا جائے تو یہ نہ صرف صحافی برادری بلکہ پورے معاشرے کیلئے مثبت نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور صحافی مل کر ذمہ دار، آزاد اور عوام دوست صحافت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات جاری رکھیں.

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں