گلگت۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمدنے محکمہ سیاحت کی جانب سے دیئے جانے والے محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے جس پر توجہ دے کر گلگت بلتستان کو مقامی اور بین الاقوامی سیاحت کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
ہمیں اپنی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف مقامات پر آثار قدیمہ اور ورثہ کی اہم نشانیاں موجود ہیں جن کے تحفظ اور ان پر تحقیق کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی زد میں آنے والے آثا ر قدیمہ کے نمونوں کو محفوظ بنانے کیلئے واپڈا کے تعاون سے اقدامات کئے جائیں۔ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں، قومی و بین الاقوامی سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور نئے سیاحتی مقامات دریافت کرنے اور ان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی جانی جائے۔
سرمائی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ استور شونٹر روڈ اور گلگت چترال ایکسپریس وے کی تعمیر سے گلگت بلتستان میں سیاحت کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ سیاحت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعے گلگت بلتستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور یہاں کی تعمیر و ترقی کے سفر کو تیزی سے آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔
نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام مارکیٹوں اور منڈیوں میں پائے جانے والے غیر معیاری اشیاء کی روک تھام کیلئے فوڈ اتھارٹی کو فوری طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے جس کیلئے متعلقہ محکمے اقدامات کریں۔


