spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
26 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الضابطی مکالمہ کاانعقاد،ماہرین کی جانب سے تحقیقی مقالے پیش۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الضابطی مکالمہ کاانعقاد،ماہرین کی جانب سے تحقیقی مقالے پیش۔

گلگت: گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹیمیں بین الضابطی مکالمہ کاانعقادکیاگیا۔شعبہ تعلقات عامہ کے آئی یو کے مطابق مکالمے کا انعقاد قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف بلتستان سکردو نے یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی)،گلاف ٹو پراجیکٹ اور اے کے آر ایس پی کے تعاون سے کیا تھا۔

مکالمے میں ماہرین کی جانب سے 20کے قریب مختلف تحقیقیمقالے پیش کئے گئے۔جن کے ذریعے مختلف معاشرتی مسائل اور ان کے حل سے متعلق امور پر بحث کیاگیا۔ جس کا مقصد کلیدی تحقیقی نتائج کو عام کرنا اور اکیڈیمیا، پالیسی سازوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا تھا۔اس مکالمے میں ہندو کش، قراقرم اور ہمالیائی سلسلوں میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تیزی سے گلیشیرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے گلاف کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کی جاری کوششوں سے متعلق معاشر ے کو درپیش چیلنجز سے متعلق اہم امور کو سامنے لانا تھا۔

اس اہم مکالمے کے افتتاحی تقریب سے ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق،ڈائریکٹر اکیڈمک ڈاکٹر سجاد علی ودیگر مقررین نے اکیڈیمیا کے کردار پر زور دیا کہ وہ بدلیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پائیدار حل تلاش کرنے، گلیشیرز کی تبدیلیوں کی نگرانی کرنے اور آفات کے رسک کو کم کرنے کی پالیسیوں کی رہنمائی کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہاکہ یہ اقدام ماحولیاتی مطالعات اور کمیونٹی کوشامل کرنے والے بین الضابطی نقطہ نظر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ بلند علاقوں میں انسانی جانوں اور روزگار کو محفوظ بنایا جا سکے۔یہ مکالمہ علم کی اشتراک کاری کے لیے بروقت پلیٹ فارم کا کام کرے گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں