گلگت۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری نے دو ایم ایس سکالرز فاطمہ مجاہد اور عاصمہ خالق نے اپنے تھیسز کا کامیاب ڈیفنس دے کر اہم سنگ میل حاصل کرلیا۔
شعبہ تعلقات عامہ کے آئی یو کے مطابق ایم ایس سکالر فاطمہ مجاہد نے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے آئی یو ڈاکٹر سجاد علی کی نگرانی میں اپنے ریسرچ تھیسز کی یفنس دے دیا۔ان کے تھیسس کاعنوان ”گرین سنتھیسس آف میٹل بیسڈ نینو پارٹیکلز یوزنگ جینشیانوڈیس تیانچانیکا”تھا۔ جس کا جائزہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی ایکسٹرنل ایگزامینر ڈاکٹر فوزیہ رحمان نے لیا۔جبکہ ایم ایس سکالر عاصمہ خالق نے اپنی ریسرچ بعنوان ”سنتھیسس آف فائٹو میڈی ایٹڈ نینو پارٹیکلز فرام بک ویٹ” کا دفاع کیا۔ جس کا امتحان اسلامیہ کالج پشاور کے ڈاکٹر محمد امتیاز نے لیا۔دونوں سکالرز نے گرین نینو ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید شراکتیں پیش کیں۔ جو پودوں کے عرقوں کا استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست طریقوں سے نینو پارٹیکلز کی سنتھیسس پر مرکوز تھیں۔ ان کی ریسرچ کو امتحانی کمیٹیوں نے سراہا۔
ڈیفنس کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر فوزیہ رحمان کی طرف سے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اورجامعہ قراقرم کے ڈیپارٹمنٹ آف کیمسٹری کے درمیان شراکت داری بڑھانے کی تجویزبھی پیش کی تاکہ ایم ایس اور پی ایچ ڈی طلباء کے لیے کامسیٹس کی سہولیات پر خصوصی تربیت کے مواقع فراہم کیا جاسکے۔جو اداروں کے درمیان ریسرچ کے تبادلے کو فروغ دے گا۔اس تجویز کو کے آئی یو ڈیپارٹمنٹ آف کیمسٹری کے چیئر پرسن ڈاکٹر افتخار علی نے سراہتے ہوئے قبول کیااور کہاکہ یہ تعاون جدید سائنسی ریسرچ میں بین الجامعی تعاون کے لیے ایک امید افزا نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔اس سے قبل ایم ایس سکالر فاطمہ مجاہد اور عاصمہ خالق نے اپنے سپروائزر، اساتذہ اور ڈیپارٹمنٹ کی مسلسل رہنمائی پر شکریہ ادا کیا اور نے کہایہ کامیابیہمارے سپروائزر کی حوصلہ افزائی کے بغیر ممکن نہ تھی۔
انہوں نے اپنے جونیئرز طلباء کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی تعلیم وتحقیق پر توجہ مرکوز رکھیں، عمل پر بھروسہ کریں، ایمانداری سے کام کریں اور کبھی امید نہ چھوڑیں کیونکہ کامیابی ہمیشہ صبر اور تسلسل کے ساتھ آتی ہے۔واضح رہے کہ یہ کامیاب ڈیفنسز گلگت بلتستان کے ہائر ایجوکیشن لینڈ سکیپ میں جامعہ قراقرم کی نینو ٹیکنالوجی ریسرچ میں بڑھتی ہوئی طاقت اور ٹیلنٹ کی پرورش کے عزم کو اجاگر کرتی ہیں۔


