پاکستان آئیڈل نے ایک کنٹسٹنٹ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام کے ہر مرحلے پر گورننس، دیانت داری، شفافیت اور انصاف کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق شو کی ساکھ، طریقۂ کار یا امیدواروں کی اہلیت پر اٹھائے گئے تمام الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اپنی شہرت، فارمیٹ اور تمام شرکا کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قانونی قدم اٹھایا جائے گا۔
پاکستان آئیڈل کے مقابلے کے امیدوار ابرار شاہد نے ججز اور شو کے عملے پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک غیر صحت مند اور نقصان دہ ماحول میں کام کرنا پڑا، جس نے ان کی عزت اور تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کیا۔
انہوں نے فیس بک پر ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ میں شو میں موسیقی، خواب اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ آیا تھا، لیکن مجھے ایک ایسا ماحول ملا جہاں سوال پوچھنا غلط سمجھا جاتا تھا اور ہمارا فن کنٹرول کیا جاتا تھا، میں نے بارہا محسوس کیا کہ میری انفرادیت دبائی جا رہی ہے۔
الزامات کے جواب میں پاکستان آئیڈل کا کہنا ہے کہ پروگرام عالمی شہرت یافتہ آئیڈل فرنچائز کے فارمیٹ کے مالک ادارے فریمنٹل کی مقررہ آڈیو اور ویژول پروڈکشن گائیڈ لائنز پر مکمل طور پر عمل کرتا ہے۔ آڈیشنز، جانچ کے مراحل اور نشریاتی عمل عالمی معیار کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق یہ افسوسناک امر ہے کہ ایک سابق امیدوار، جو اپنی مرضی سے شو سے دستبردار ہوا، اب عوامی سطح پر ایسے بیانات دے رہا ہے جو جھوٹے، گمراہ کن اور ہتک آمیز ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان الزامات کے ذریعے پروڈکشن ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیت، ججز کے فیصلوں کی دیانت داری اور دیگر امیدواروں کی محنت پر بلاجواز سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو نیک نیتی سے مقابلے میں شریک ہیں۔
پاکستان آئیڈل نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ پروگرام میں میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا اور کسی بھی قسم کی غلط معلومات پھیلانے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


