گلگت
بامِ دنیا فلم فیسٹیول نے انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے کی تقریبات کے سلسلے میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (KIU) میں تخلیقی صلاحیت، ثقافت اور ماحولیاتی آگاہی کو یکجا کیا۔
یہ فیسٹیول محکمہ سیاحت گلگت بلتستان، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، محکمہ اطلاعات جی بی، سیرینا ہوٹلز، جی بی آر ایس پی اور کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس کا مقصد پاکستان کے پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی، چیلنجز اور نوجوانوں کی کہانی گوئی کو اُجاگر کرنا تھا۔
اس سال کا مرکزی موضوع گلیشیئرز،خوراک، پانی اور روزگار کے لیے اہم، تھا، جس کے ذریعے پہاڑی ماحولیاتی نظاموں میں گلیشیئرز کے کردار اور ان کو درپیش خطرات پر روشنی ڈالی گئی۔ گلگت بلتستان، چترال اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے فلم سازوں نے مختصر فلموں اور دستاویزی فلموں کے ذریعے پائیدار زراعت، ماحولیاتی استحکام اور ثقافتی ورثے جیسے اہم موضوعات کو موثر انداز میں اجاگر کیا۔
اس پروگرام میں سرکاری حکام، ماہرین تعلیم، کمیونٹی رہنماؤں اور میڈیا نمائندگان نے بھرپور شرکت کی،جس سے
ماحولیات سے متعلق آگاہی میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر ہوئی۔
تقریب کے معزز مہمانوں میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری جی بی کیپٹن (ر) مشتاق احمد، پرووسٹ KIU قمر عباس، ڈائریکٹر ٹوریزم اقبال حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات جی بی محمد سلیم خان، گلگت پریس کلب اور گلگت یونین آف جرنلسٹس کے صدور اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے منیجر کمیونیکیشنز نصیر احمد شامل تھے۔
اس کے علاوہ اے کے آر ایس پی، سیرینا ہوٹلز اور محکمہ اطلاعات کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ ان کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ پہاڑی علاقوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
ڈاکیومنٹری مقابلے میں مختلف اور متاثر کن فلمیں پیش کی گئیں جو خطے کی ثقافتی خوبصورتی اور ماحولیاتی حقائق کو اجاگر کرتی تھیں۔ تنویراحلام کی فلم Breath of Ice نے پہلی پوزیشن حاصل کی، حفیظہ علی کی She Can دوسری جبکہ صبنا ضمیر کی Soul of the Mountains نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ہر فلم کو مضبوط کہانی اور بصری معیار پر سراہا گیا۔
ماحولیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز بھی دیے گئے۔ ندیم خان (گلگت میڈیا نیٹ ورک) نے پہلا ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ شیریں کریم (ویمن ٹی وی) اور مبارک حسین (نیو ٹی وی) نے بالترتیب دوسرا اور تیسرا ایوارڈ جیتا۔ ان کی خدمات اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں کہ میڈیا عوامی شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
فیسٹیول کے ججوں میں قومی و بین الاقوامی ماہرین شامل تھے، جن میں ڈاکٹر ٹموتھی کوپر (ریسرچ فیلو، یونیورسٹی آف کیمبرج)، سلکے بیلر (ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ساز اور انسان شناس)، پاکستان کے معروف فلم میکر جامی، اور گلگت بلتستان کے ابھرتے ہوئے فلم ساز کرامت علی شامل تھے، جن کی فلم Hundon حال ہی میں پاکستانی سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ ان ماہرین کی موجودگی نے فیصلے کے عمل کو مزید مضبوط اور جامع بنایا۔
اس سال فیسٹیول میں کل 22 فلمیں جمع کرائی گئیں، جو نوجوان فلم سازوں کی ماحولیاتی کہانی گوئی میں بڑھتی دلچسپی کا ثبوت ہے۔
اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے نصیر احمد نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہ فیسٹیول صرف فلموں کے بارے میں نہیں، بلکہ لوگوں اور خیالات کو ایک بہتر مستقبل کے لیے جوڑنے کا ذریعہ ہے۔بام دنیا فلم فیسٹیول نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فلم نہ صرف تعلیم اور آگاہی کا موثر ذریعہ ہے بلکہ ثقافتی ورثے اور ماحولیاتی مسائل کو اُجاگر کرنے کا بھی طاقتور پلیٹ فارم ہے۔
ہرگزرتے سال کے ساتھ یہ فیسٹیول نوجوانوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور پہاڑوں، ان کے لوگوں اور ان کی کہانیوں کے جشن کا اہم پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔


