spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
26 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

برطانوی کمپنی کی زیر آب بیس بنانے کی تیاری

سمندر میں چھپے حقائق کو دریافت کرنے کے لیے زیر آب بیسز میں رہنے کی تیاری کر لی۔

انسانوں کو طویل مدت تک زیر آب رکھنے کے لیے اب تک متعدد زبر دست خیالات پیش کیے گئے ہیں لیکن اس بار برطانوی کمپنی ’ڈِیپ‘ ایسے ہی کسی خیال کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے پُر امید ہے۔

وینگارڈ سمندر کی تہہ میں تنصیب کی جانے والی دنیا کی پہلی فعال زیر آب انسانی بیس ہوگی۔

یہ بیس چار افراد پر مشتمل عملے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جس میں سات یا اس سے زیادہ روز تک قیام کیا جا سکے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بیس سے سائنس دانوں کو سمندر کی تہہ میں طویل مدت تک رکنے مین مدد ملے گی اور وہ زمین پر واپس آئے بغیر سمندر کی گہرائی میں تحقیق جاری رکھ سکیں گے۔

یہ طریقہ کورل ریفس سے متعلق نئی معلومات جاننے میں مدد دے سکتا ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل کے خلائی مشن کے لیے خلانوردوں کی ٹریننگ کے لیے کام آسکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں