گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ملک بھر میں لاکھوں ایکڑ غیر آباد زمین کو قابل کاشت بنانے کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں جس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
سی ای او ییلو گرین فارم غلام مصطفی خاندان سمیت پاکستان منتقل ہو کر جدید زراعت کے فروغ میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔
غلام مصطفی نے طویل المدتی زرعی منصوبے کو منفرد اور پائیدار موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع ذاتی زمین میں بھی کم ہی دستیاب ہوتے ہیں۔
مقامی کسان محمد عبداللہ لیاقت نے کہا کہ جی پی آئی کے تحت 17 ہزار ایکڑ رقبہ حاصل کر کے زراعت کو وسعت دی گئی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
عبداللہ لیاقت نے کہا کہ گرین پاکستان انیشیٹو نے جدید زراعت متعارف کروائی اور ایگری مالز کے قیام کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔
کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق جی پی آئی کا یہ منصوبہ بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے
منصوبے کے تحت جدید زرعی مشینری اور طریقوں کو فروغ دے کر روایتی کاشتکاروں کو جدید زراعت کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔
خالد محمود کھوکھر نے بتایا کہ ڈریپ ایریگیشن، پیوٹ اور اسپرنکلر سسٹمز کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو زرعی خود کفالت ،پائیدار ترقی اور تحفظِ خوراک کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔


