spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس پر حملہ، دو ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید

کوئٹہ: 

زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں نے پولیس پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید ہوگئے۔

ایس پی زیارت قدوس دہوار کے مطابق حملہ پولیس اہلکاروں پر کیا گیا ہے، گزشتہ رات سے دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔

شہداء کو ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دیا گیا ہے۔ شہید ہونے والوں میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین اور ایس ایچ او کواس صحبت خان شامل ہیں۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا تھا کہ ضلع زیارت میں فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا۔ ایف سی، بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔

شاہد رند نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد حملے میں بلوچستان پولیس کے 9 افسران و اہلکار شہید ہوئے۔ شہداء میں ایس ایچ او تھانہ منگی، ایس ایچ او تھانہ کاوس، اے ٹی ایف انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔

معاون وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ شہداء کی میتیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں، بلوچستان حکومت شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے، دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے زیارت کے علاقے میں بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے 9 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت جبکہ صبر جمیل کی دعا کی۔

محسن نقوی نے کہا کہ امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، شہداء کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے بزدلانہ حملے امن کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب، 20 افراد کے اغواء کے خلاف ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس پر قومی شاہراہ شہریوں نے احتجاجاً بند کر دی۔ احتجاج زیارت میں کچ کے علاقے سے پولیس اہلکاروں سمیت دیگر افراد کے اغوا کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ قومی شاہراہ کی بندش کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد کو نامعلوم مسلح افراد نے مانگی ڈیم کے زیر تعمیر ٹینکی سے اغوا کیا، مغوی پولیس اہلکار زیر تعمیر ٹینکی پر تعینات تھے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اغوا کیے جانے والے تمام افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، پانچ مغوی افراد اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں