فیفا ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریا اور الجزائر کے درمیان کھیلا گیا گروپ جے کا آخری میچ 3-3 گول سے برابری پر ختم ہوا مگر سنسنی خیز مقابلے کے بعد اس کے نتیجے نے نئی بحث چھیڑ دی۔
اس ڈرا کے باعث دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں جبکہ ایران ایونٹ سے باہر ہو گیا جس پر ایرانی شائقین نے شدید اعتراض کرتے ہوئے فیفا سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
میچ کے بعد الجیریا کے کپتان ریاض محرز کے دیے گئے بیانات نے مقابلے کو مزید مشکوک بنادیا ہے۔
ریاض محرز کا کہنا تھا کہ صورتحال کچھ عجیب تھی۔ ہم تیزی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے۔ پھر آخری لمحے میں گیند میرے پاس آئی، تو میرے پاس گول کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں کھیل کے اصولوں اور فٹبال کا احترام کرتا ہوں۔
محرز نے مزید کہا کہ ان کے لیے اچھی بات یہ ہوئی کہ انہوں (آسٹریا) نے بھی گول کر لیا اور وہ بھی کوالیفائی کر گئے۔ ہم دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ گئے اور آج یہی سب سے اہم بات تھی۔
اپنے انجری ٹائم کے گول کے بارے میں بات کرتے ہوئے الجزائر کے کپتان نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک شرمندگی والی صورتحال تھی لیکن گیند میرے پاس آئی تو میں کیا کرتا؟
ریاض محرز کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں، تاہم اب تک فیفا یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل یا تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔


