یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی جان لیوا ہے تاہم روز مرہ کی ایک عام سی عادت اس سے کہیں زیادہ صحت کو متاثر کرسکتی اور وہ ہے طویل دورانیے تک بیٹھے رہنا۔
دنیا کی ایک بڑی آبادی گھر، دفتر یا اسکرین کے سامنے روزانہ تقریباً دس گھنٹے بیٹھ کر وقت گزارتی ہے بظاہر بے ضرر لگنے والا یہ عمل امراض قلب، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور قبل از وقت موت کو خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
ایسے تمام افراد جو اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ماہرین انہیں ورزش اور بہتر غذا کا مشورہ دیتے ہیں اگر کوئی ان تمام اہداف پر عمل پیرا ہوبھی جائے پھر بھی دیر تک بیٹھنے سے صحت پر پڑنے والے اثرات کو کم نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں پردو طرح کے ترز عمل کو سمجھنا ضروری ہے جسمانی طور پر غیر فعال رہنا اور بیٹھے رہنے کا طرزِ عمل برابر نہیں ہے۔
جسمانی غیرفعالیت کا مطلب ہے مناسب مقدار میں ورزش نہ کرنا صحت کے عالمی رہنما اصولوں کے مطابق ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل سرگرمی (جیسے تیز چہل قدمی یا سائیکل چلانا) یا 75 منٹ شدید سرگرمی (جیسے دوڑنا) ضروری ہے۔
اس کے برعکس بیٹھے رہنے کا طرزِ عمل ایسے اوقات کو کہتے ہیں جب انسان کم توانائی خرچ کرتے ہوئے طویل وقت تک بیٹھا یا لیٹا رہے چاہے وہ دفتر میں ہو، ٹی وی کے سامنے یا سفر کے دوران۔
یعنی کوئی شخص ورزش کرنے کے باوجود بھی زیادہ وقت بیٹھنے والا بھی ہو سکتا ہے مثال کے طور پر کوئی شخص صبح دوڑتا ہے مگر اس کے بعد آٹھ گھنٹے مسلسل بیٹھا رہے ورزش فائدہ دیتی ہے، مگر بیٹھنے کے نقصانات کو مکمل ختم نہیں کرتی۔
جب جسم طویل عرصے تک کوئی حرکت نہ کرے تو ایسی صورت میں جسم میں کئی تبدیلیاں جنم لینے لگتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں۔
دیر تک بیٹھے رہنے سے پٹھوں کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے جس سے خون سے گلوکوز جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ یہ انسولین رزسٹنس کا باعث بنتا ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی ایک بڑی وجہ ہے اسی طرح چربی کے میٹابولزم کی رفتار بھی کم ہو جاتی ہے۔
بیٹھے رہنے سے خون کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے جس سے جسم کے حصوں تک آکسیجن اور غذائی اجزاء کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اس سے خون کی نالیوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔
یہ تمام تبدیلیاں مل کر کارڈیو میٹابولک مسائل کے خطرے کو بڑھاتی ہیں جیسے خون میں شوگر کی زیادتی، خراب کولیسٹرول، اور پیٹ کے گرد چربی کا جمع ہونا۔
زیادہ دیر بیٹھنا عضلاتی و ہڈیوں کے نظام پر بھی اثر ڈالتا ہے غلط انداز میں بیٹھنا اور کم حرکت گردن، کندھوں اور کمر کے نچلے حصے پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے دفتر میں کام کرنے والوں میں درد عام ہو جاتا ہے۔
اس کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی بھی ہوتے ہیں طویل دورانیے تک کسی سرگرمی کو انجام نہ دینا ارتکاز، توجہ اور توانائی کو کم کر سکتی ہے ایسے افراد اکثر خود کو سست محسوس کرتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ جسمانی طور پر فعال نہ رہنا عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 40 سے 50 لاکھ اموات کا باعث بنتا ہے۔
اگرچہ زیادہ توجہ ورزش کا دورانیہ بڑھانے پر دی جاتی ہے لیکن اب بیٹھنے کے وقت کو کم کرنا بھی ایک اہم ہدف سمجھا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہر 30 سے 60 منٹ بعد صرف 2 سے 5 منٹ کے لیے کھڑا ہونا یا چلنا گلوکوز میٹابولزم کو بہتر بنا سکتا ہے اور صحت کے کئی مسائل کے خطرات کم کر سکتا ہے۔
دوپہر میں تھوڑی چہل قدمی، فون پر بات کرتے ہوئے کھڑے ہونا، یا میٹنگز کے درمیان اٹھ کر چلنا معمولی باتیں لگ سکتی ہیں لیکن حقیقت میں یہ بہت اہم ہیں۔


