وزارت خزانہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ میں ملکی معیشت کی مجموعی تصویر ملا جلا رجحان پیش کرتی ہے جہاں کچھ اشاریے بہتری دکھا رہے ہیں تو کچھ اب بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود 11.5 فیصد مقرر کی ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو میں 7.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جو 8.2 فیصد اضافے کے ساتھ جولائی تا مارچ 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اسی دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 65 ہزار 823 پوائنٹس تک جا پہنچا جبکہ مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں 44.3 فیصد اضافہ ہو کر 18.34 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔
ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری سامنے آئی ہے جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی تا فروری 9305 ارب روپے جمع کیے، جو 10 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر 20.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جن میں سے 15.1 ارب ڈالر مرکزی بینک کے پاس موجود ہیں، جبکہ ڈالر کی قدر انٹربینک میں 278 روپے 80 پیسے پر مستحکم رہی۔
دوسری جانب برآمدات میں 5.8 فیصد کمی ہو کر 23.3 ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات 7.9 فیصد اضافے کے ساتھ 46.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو کم ہو کر 1.35 ارب ڈالر رہ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ کے دوران مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد رہی، جبکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا۔ زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی 14.4 فیصد بڑھی اور کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 22.7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
وزارت خزانہ پاکستان کے مطابق پرائمری بیلنس میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ 4,319 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں گراوٹ مستقبل کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔


