spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

معروف شاعرہ اور ادیب شبنم شکیل کی 22ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

اردو ادب کی ممتاز شاعرہ، ادیبہ اور ماہرِ تعلیم شبنم شکیل کی 22ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

معروف شاعرہ شبنم شکیل نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خصوصاً خواتین کے جذبات، احساسات اور سماجی مسائل کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی سے قلم بند کیا، ان کا اسلوب سادہ مگر دل نشین تھا، جو قاری کے دل میں گھر کر لیتا ہے۔

شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری۔ انہوں نے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور مختلف تعلیمی اداروں میں بطور لیکچرار خدمات انجام دیں۔ ان کی پہلی کتاب، جو تنقیدی مضامین پر مشتمل تھی، 1965ء میں شائع ہوئی اور علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔

Discover more
Iftar snacks recipes
Pakistan news coverage
Health and wellness products

ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 2005ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے دیا جانے والا Pride of Performance بھی شامل ہے۔ ان کے نمایاں شعری و نثری مجموعوں میں شب زاد، اضطراب اور مسافتِ رائیگاں تھی، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ اور آواز تو دیکھو شامل ہیں، جو آج بھی ادب سے شغف رکھنے والوں میں مقبول ہیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں۔ انہیں اسلام آباد کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، تاہم ان کا ادبی سرمایہ آج بھی اردو ادب میں زندہ و تابندہ ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں