spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

طالب علم کی خودکشی، انڈونیشیا میں بچوں کی ذہنی صحت پر تشویش بڑھ گئی

انڈونیشیا کے پرائمری اسکول کے طالب علم کی خودکشی نے بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت سے متعلق سنگین خدشات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔

صوبہ بنڈونگ میں 1 لاکھ 48 ہزار سے زائد طلبہ کی ذہنی صحت کی اسکریننگ کے دوران 48 فیصد بچوں میں ذہنی مسائل کی علامات پائی گئیں، جسے ماہرین نے تشویشناک قرار دیتے ہوئے پیشہ ورانہ مداخلت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یونیسیف انڈونیشیا کے مطابق نوعمر افراد تعلیمی دباؤ، سماجی توقعات اور ذہنی صحت کی سہولیات تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بدنامی (اسٹیگما) اور کمزور رپورٹنگ سسٹم کے باعث خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کے کئی واقعات سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں ہو پاتے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق عالمی سطح پر ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں تقریباً 80 فیصد اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔ خودکشی اب دنیا بھر میں نوعمروں کی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

2023 کے گلوبل اسکول بیسڈ اسٹوڈنٹ ہیلتھ سروے کے مطابق انڈونیشیا میں 8.7 فیصد طلبہ نے گزشتہ سال خودکشی پر سنجیدگی سے غور کیا جبکہ 10.4 فیصد نے کوشش کی۔ جاوا کے چار صوبوں میں کیے گئے ایک اور مطالعے میں ایک چوتھائی سے زائد طلبہ نے زندگی میں کسی نہ کسی وقت خودکشی کے خیالات کا اعتراف کیا۔

ماہرین کے مطابق بچپن میں جنسی، جسمانی یا جذباتی تشدد، گھریلو تنازعات، والدین کی ذہنی صحت کے مسائل، معاشی دباؤ اور اسکول میں بُلیئنگ جیسے عوامل خودکشی کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچپن میں جنسی زیادتی کا تعلق خودکشی کی منصوبہ بندی سے مضبوط پایا گیا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مضبوط خاندانی تعلقات، اسکول سے وابستگی، مثبت خودتصور اور جسمانی سرگرمی جیسے عوامل حفاظتی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکولوں میں اینٹی بُلیئنگ پروگرامز، اساتذہ کی تربیت اور باقاعدہ ذہنی صحت اسکریننگ سے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق بدنامی کم کرنے، دیہی اور کم آمدنی والے علاقوں میں خدمات بڑھانے اور میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات کے مطابق خودکشی سے متعلق خبروں میں سنسنی خیزی سے گریز اور معاون وسائل کی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں