spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

اسلام آباد: گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ہنر و بیرونِ ملک روزگار کی فراہمی پر زور

اسلام آباد : نگران صوبائی وزیر تعلیم و قانون گلگت بلتستان بہادر علی خان نے پنڈی میں قائم ایک معروف اسکل ڈویلپمنٹ و اوورسیز ایمپلائمنٹ کمپنی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں منیجنگ ڈائریکٹر ولی جان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

ملاقات کے دوران نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں باعزت روزگار کےمواقع فراہم کرنے کے حوالے سےتفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منیجنگ ڈائریکٹر ولی جان نے ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مختلف فنی شعبوں میں معیاری تربیت فراہم کر رہی ہے جن میں پلمبنگ ٹیکنیکل ٹریڈز، ڈرائیونگ اور دیگر پیشہ ورانہ مہارتیں شامل ہیں۔

تربیت کی تکمیل کے بعد باصلاحیت نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان مختلف ممالک میں باعزت روزگار کما کر اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں اور ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

نگران وزیر نے ادارے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔

انہوں نے خصوصی طور پر مطالبہ کیا کہ گلگت کے علاوہ دیامر، استور، غزر اور سکردو میں بھی ادارے کے دفاتر اور
تربیتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی یکساں مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو خود کفیل بنانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے
گی جبکہ نجی شعبے کے ساتھ اشتراک سے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر ولی جان نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع تک اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ہنر مند بن کر قومی و بین الاقوامی سطح پر باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں