spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
2 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

دیامر میں ٹی بی ادویات ناپید، علاج میں تعطل سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

چلاس: دیامر میں ٹی بی ادویات ناپید، علاج میں تعطل سے قیمتی جانیں خطرے میں ۔

تفصیلات کے مطابق ضلع دیامر میں تپِ دق (ٹی بی) جیسے موذی اور متعدی مرض کی سرکاری ادویات کی شدید قلت نے صحتِ عامہ کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چلاس اور دیگر سرکاری صحت مراکز میں ٹی بی کی ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ علاج میں تعطل سے مریضوں کی زندگیاں براہِ راست خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے مطابق کئی ہفتوں سے سرکاری ہسپتالوں میں ٹی بی کی ادویات دستیاب نہیں، جس کے باعث مریض یا تو مہنگا نجی علاج کروانے پر مجبور ہیں یا پھر علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے لیے باقاعدہ علاج جاری رکھنا ناممکن بنتا جا رہا ہے۔

طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ٹی بی کا علاج مخصوص مدت اور مکمل تسلسل کے ساتھ کرنا نہایت ضروری ہے۔

علاج میں معمولی سا ناغہ بھی مرض کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور مریض میں ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جو نہ صرف مریض بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو ضلع دیامر میں ٹی بی کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں