spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

کراچی نہیں سنبھل رہا تو پرائیویٹائز کردیں، تابش ہاشمی کی حکومت پر تنقید

پاکستان کے معروف میزبان تابش ہاشمی نے کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔

حال ہی میں ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ کراچی کا شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں گل پلازہ سے خریدی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو۔

 انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچپن سے جوانی اور پھر عمر کے اس حصے تک، کراچی کی جو شناخت اور وابستگیاں تھیں وہ ایک ایک کر کے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

تابش ہاشمی نے وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف جوابدہ ہونے کا اعلان کافی نہیں، اس کا عملی ثبوت بھی نظر آنا چاہیے، یہ کراچی میں پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی متعدد بار آگ لگنے کے واقعات پیش آچکے ہیں اور کئی بچے ڈمپر حادثات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعلیٰ واقعی جوابدہ ہیں تو کیا اس کی کوئی قیمت ادا کی گئی؟ کیا ان کے عہدے یا مراعات پر کوئی اثر پڑا؟ متاثرین کو دیا جانے والا ہرجانہ بھی حکمران اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے۔

میزبان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر حکومت کو احساس ہو گیا تھا کہ پی آئی اے ان سے نہیں چل پا رہی تو اسے نجکاری کے حوالے کر دیا گیا، اسی طرح اگر کراچی بھی ان سے نہیں سنبھل رہا تو اسے بھی پرائیوٹائز کر دیا جائے، کراچی کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہری مل کر شہر کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔

تابش ہاشمی نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ انہیں یقین ہے کہ شہری مل کر کراچی کو موجودہ صورتحال سے کہیں بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ نظام اس سے بدتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں