spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

مونٹریئل (کینیڈا) – کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بند بوتل سے پانی پینے والے افراد سالانہ کئی گنا مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔

تحقیق میں 140 سے زائد مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق بوتل بند پانی میں ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات موجود ہو سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی روزانہ کی پانی کی مقدار صرف سنگل یوز بوتل سے حاصل کرے تو وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں جذب کر لیتا ہے، جبکہ صرف نل کے پانی پینے والے افراد کو سالانہ تقریباً 4,000 ذرات جذب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوتل کے گلے اور ڈھکن روشنی، حرارت اور دیگر عوامل کے اثر سے مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے بنیادی ذرائع ہیں۔

عالمی سطح پر کیے گئے مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایک عام انسان سالانہ تقریباً 39,000 سے 52,000 مائیکروپلاسٹک ذرات خوراک اور پانی کے ذریعے جذب کرتا ہے، لیکن جو لوگ روزانہ پلاسٹک بوتل سے پانی پیتے ہیں، ان میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 90,000 ذرات تک پہنچ جاتی ہے۔ مائیکروپلاسٹک ذرات کا سائز ایک نانومیٹر سے پانچ ملی میٹر تک ہو سکتا ہے اور یہ بوتل کے اندر موجود پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے صحت پر فوری اثرات کا جائزہ لینے اور معیاری ٹیسٹنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صارفین کو محفوظ اور صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں