spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
2 March, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

**نگران وزیر اطلاعات غلام عباس: صاف اور پرامن انتخابات حکومت کی ترجیح، میڈیا اور آئی ٹی مسائل کے حل سمیت تمام جماعتوں کے لیے برابر مواقع یقینی بنائے جائیں گے۔

اسلام آباد :

نگران وزیر اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی گلگت بلتستان غلام عباس نے کہا ہے کہ نگران حکومت کی یہ اولین ترجیح ہے کہ آئندہ انتخابات صاف و شفاف ہوں، آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں، نگران وزیر اعلیٰ کی واضع ہدایت ہے کہ ہم عوام کے مسائل بجلی، انٹرنیٹ، اور دیگر مسائل کی نشاندہی کر کے انُ کے حل کے لئے بھرپور کوشش کرے۔ صحافیوں کے لیے ہیلتھ کوریج سمیت فلاح و بہبود کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے.

وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مل کر انٹرنیٹ، کوریجز اور آئی ٹی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی،اس وقت گلگت بلتستان میں فور جی مشکل سے دستیاب ہے، کوشش ہے مسائل کو جلد از جلد حل کریں،مودی اور بھارت ہمیشہ سے گلگت بلتستان کے بارے میں غلط پراپیگنڈا کرتے رہے ہیں گلگت بلتستان پاکستان کا جھومر ہے، جی بی کے آئندہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے اور لیول پلئینگ فیلڈ مہیا ہوگی.،نگران وزیر اطلاعات گلگت بلتستان غلام عباس نے ان خیالات کا اظہار، ترجمان وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان شبیر میر، صدر این پی سی اظہر جتوئی صدر جی بی جرنلسٹس فورم ابرار حسین استوری، ممبر گورننگ باڈی این پی سی جعفر علی بلتی، سابق صدر آر آئی یو جے عابد عباسی و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، پریس کلب پہنچنے پر نگران وزیر اطلاعات گلگت بلتستان غلام عباس اور ترجمان شبیر میر کا پر تپاک استقبال کیا گیا،صدر این پی سی اظہر جتوئی نے پریس کلب آمد پر جی بی کے نگران وزیر اطلاعات کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ غلام عباس کا نگران وزیر بننا نہ صرف جی بی کے عوام بلکہ این پی سی کیلئے بھی اعزاز کی بات ہے کیونکہ وہ این پی سی کے ممبر رہے ہیں،یہ صحافی ہونے کے ناطے جی بی کے مسائل پر لکھتے رہے ہیں لہذاامید ہے کہ وہ ان مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرینگے، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و نشریات گلگت بلتستان غلام عباس کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان باقی صوبوں کہ طرح اہم اکائی ہے،گلگت کو پاکستان کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے،گلگت بلتستان کے عوام کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور یہاں کے باسی اس مملکت عظیم سے بےپناہ محبت کرتے ہیں اور یہاں کے عوام کا پاکستان کے ساتھ وفاداری کی ایک تاریخ ہے۔ نگران وزیر اطلاعات نے کہا حکومت کی مدت نومبر 2025 میں مکمل ہو ئی توجسٹس( ر) یار محمد جی بی کے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری ہوئی، نگران سیٹ اپ کی یہ اولین ترجیح اور کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات پرامن ماحول میں صاف شفاف طریقے سے منعقد ہوں۔ جیسا کہ نگران وزیر اعلیٰ جناب جسٹس ریٹائرڈ یار محمد صاحب نے حلف اٹھانے کے فورا بعد یہ بات واضح کر دی تھی کہ نگران حکوت کا کام جی بی میں صاف اور شفاف انتخابات کرانا ہے۔

نگراں حکوت کی یہ اولین ترجیح اور مینڈیٹ بھی ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف شفاف اور پر امن انتخابات ہو۔ اس حوالے سے ہم الیکشن کمیشن کو تمام سہولیات فراہم کرینگے تاکہ بروقت اور شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی ہو۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے اہم امور جن میں امن عامہ کو برقرار رکھنا اور بجلی کے مسائل کے حل کے لئے بھی نگران حکوت بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے اس حوالے سے کمیٹیز تشکیل دی ہے اور وہ خود بھی ان مسائل اور ان پر پیشرفت سے متعلقُ مانیٹر کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں اہم سولر پروجیکٹ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے اور ٹینڈرنگ اور دیگر پراسس کو سپیڈ اپ کردیا گیا ہے۔ غلام عباس نے کہا کہ چونکہ ہماری حکومت آزاد میڈیا اور فریڈم آف پریس پر یقین رکھتی ہے وزیر اعلی کی خاص ہدایت ہے کہ صحافیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے. میری وزارت انفارمیشن سے متعلق بھی ہے لہذا میں نے چارج سنبھالتے ہی گلگت بلتستان میں صحافیوں کے مسائل کے بارے میں ڈیپارٹمنٹ سے بریفنگ لی اور کئی اقدامات جن میں کچھ زیر التوا پروگرامز تھے کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ پریس کلبس کا دورہ بھی کیا اور صحافیوں سے مختلف میٹینگس بھی کئی اور مزید انٹریکشن اور میٹئنگس پلان میں بھی ہیں۔ گلگت بلتستان کے صحافیوں کو انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کی سابقہ حکومت نے صحافیوں کے ہیلتھ انشورنش کے طور پر ایک انڈومنٹ فنڈ قائمُ کیا تھا۔ جس کا مقصد صحافیوں کو صحت سے متعلق حکومتی سطح پر امداد تھا۔

چونکہ صحت کارڈ کے تحت موجودہ سہولیات صحافیوں کو بھی دستیاب ہیں لہذا ہم نے اس فنڈ کو ایک ولفیئر فنڈ میں تبدیل کرنے کاُفیصلہ کیا ہے اور اس حوالے تمام سٹیک ہولڈرز یعنی پریس کلبس، یونین آف جرنلیسٹ اور صحافی تنظیموں سے مشاورت جاری ہے۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں مقامی صحافی حضرات اور میڈیا پرسنسز بہت زیادہ تعداد میں بغیر تنخواہ کے ہیں اور ان کو مناسب تنخواہیں نہیں ملتی۔ اس حوالے سے بھی میڈیا مالکان اور صحافیوں سے مشاورت جاری ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے حوالے سے غلام عباس نے کہا کہ جس طرح دنیا بھر میں میڈیا انڈسٹری میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں گلگت بلتستان حکومت نے بھی ایک ڈیجیٹل میڈیا پالیسی فریم کی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا آوٹ لیٹس، یوٹیوب چینل، ویب بیسڈ چینل، کیبل ٹی وی کی رجیسٹریشن اور اشتہارات سے متعلق ڈرافٹ پالیسی پر بھی مشاورت شروع کردی گئی ہے. ہماری نگران حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے، نگران وزیر اعلیٰ کی واضع ہدایت ہے کہ ہم عوام کے مسائل کی نشاندہی کریں، ہم بجلی، انٹرنیٹ، اور دیگر مسائل کی بخوبی نشاندہی کررہے ہیں، منسٹری اف آئی ٹی سے مل کر انٹرنیٹ، کوریجز اور آئی ٹی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی،اس وقت گلگت بلتستان میں فور جی مشکل سے دستیاب ہے، کوشش ہے مسائل کو جلد از جلد حل کریں، انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے ہیلتھ کارڈ کہ فراہمی کو ہم یقینی بنائیں گے،مودی اور بھارت ہمیشہ سے جی بی کے بارے میں غلط پراپیگنڈا کرتے رہے ہیں ،ہمیں بھارت کے منفی پراپیگنڈے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جی بی کے آئندہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت ہو گی،انہوں نے مزید کہا کہ پریس کلب اور تمام صحافیوں کو مشکور ہوں جنہوں نے کم وقت میں اس پروگرام کا انعقاد کیا،یہ پریس کلب میرا گھر ہےاس گھر میں آج میں مہمان کی حیثیت سے آیا ہوں،صحافیوں کی تنخواہوں کو بروقت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں،

اس موقع پر ترجمان گلگت بلتستان حکومت شبیر میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس تین مہینے کا وقت ہے ،تمام نئے چہرے ہیں ہمارے کسی بندے پر اعتراض نہیں ہیں یقین دھانی کراتے ہیں کہ ہم صاف و شفاف الیکشن کرائیں گےوزیر موصوف جانفشانی سے کام کر رہے ہیں بجلی کے ہمارے پاس بہت مسائل ہیں کوشش کر رہے ہیں چند مہینوں میں عوام کے لیے کچھ کر جائیں ،جو باتیں کر رہے ہیں آپ الیکشن میں دیکھیں گے کہ وہ سچ ہوگا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں