spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

فلو کے بعد کئی ہفتوں تک کھانسی، کن حالات میں خطرناک؟

فلو یا شدید نزلہ زکام جیسے کی بیماریوں سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی کئی ہفتوں تک کھانسی برقرار رہنا عام طور پر تشویش کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے عام وجہ یہ ہے کہ سانس کی نالی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی ہوتی اور حساس رہتی ہے، جس سے کھانسی دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق فلو کے بعد اکثر افراد کو ایسے نزلے کا سامنا ہوتا ہے، جس میں ناک یا سائنَس سے نکلنے والا بلغم جو حلق کے پچھلے حصے میں بہتا رہتا ہے۔ اس سے گلے میں جلن پیدا ہوتی ہے اور کھانسی کا ردعمل جنم لیتا ہے۔

مزید یہ کہ دمہ، الرجی یا معدے کی تیزابیت جیسی حالتیں بھی سانس کی نالی کو حساس بناتی ہیں اور کھانسی کو طویل کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی اور آلودہ ماحول میں رہنا بھی کھانسی کی شدت اور مدت کو بڑھا دیتا ہے، کیونکہ یہ عوامل سانس کی نالی میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کھانسی کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، خون آنا، غیر معمولی وزن میں کمی یا رات کو شدید پسینہ جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

خاص طور پر، اگر کھانسی آٹھ ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو اسے معمولی مسئلہ نہ سمجھیں، کیونکہ بعض اوقات یہ کسی سنگین بیماری، جیسے پھیپھڑوں کی انفیکشن یا دیگر ریڑھائی امراض کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کھانسی کے دوران اپنے قریب ضعیف المناعی افراد، بچوں اور بوڑھوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے ہاتھ کی صفائی اور مناسب وینٹیلیشن، تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ ساتھ ہی، کھانسی کے دیرپا اثرات کو کم کرنے کے لیے فلٹر شدہ پانی، صحت مند غذا اور مناسب آرام کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں