spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

چلتا پھرتا ڈاک فلم فیسٹیول کا لاہور میں کامیاب اختتام

چلتا پھرتا ڈاک فلم فیسٹیول کا لاہور میں کامیاب اختتام

لاہور. پاکستان ڈاکومنٹری ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام چلتا پھرتا ڈاک فلم فیسٹیول کا چوتھا ایڈیشن لاہور میں اختتام پذیر ہوا، جس میں بڑی تعداد میں فلم سازوں، فلمی حلقوں اور شائقین نے شرکت کی۔

فیسٹیول 20 دسمبر سے شروع ہوا اور پاکستان کے مختلف شہروں میں نمائش کے بعد لاہور میں اختتام پذیر ہوا۔ فیسٹیول میں منتخب شارٹ اور دستاویزی فلموں کی نمائش کی گئی جن میں سماجی مسائل، ثقافتی ورثے، انسانی حقوق، ماحولیات اور روزمرہ زندگی جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔

منتظمین کے مطابق فیسٹیول کا مقصد معیاری دستاویزی فلموں کو بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف علاقوں تک پہنچانا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان فلموں سے فکری آگاہی اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔

اختتامی تقریب میں فلم سازوں اور ناظرین کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، جس میں دستاویزی فلم سازی کے مستقبل اور اس کے سماجی کردار پر گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے فیسٹیول کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ پاکستان میں دستاویزی فلم سازی کو فروغ مل سکے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں