spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

چاند پر رہائش کیلئے بُکنگ شروع، پیشگی ادائیگی کی رقم کا بھی اعلان

چاند پر رہائش کیلئے بڑی آفر سامنے آگئی ہے جس میں جی آر یو اسپیس کمپنی نے 10 لاکھ ڈالر پیشگی پر چاند پر کمرا بُک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

خلائی سیاحت اور مستقبل کی رہائش کے شعبے میں سرگرم ادارے جی آر یو اسپیس نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اب عام افراد بھی چاند پر اپنا کمرہ بُک کرا سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس مقصد کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر بطور پیشگی ادائیگی درکار ہوں گے۔

 

جی آر یو اسپیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل کی خلائی رہائش کے تصور کے تحت متعارف کرایا گیا ہے، جس میں چاند پر جدید سہولیات سے آراستہ کمروں کی تعمیر شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی بکنگ کا مقصد ممکنہ صارفین کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا جائزہ لینا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ خلائی سیاحت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تاہم چاند پر نجی رہائش اور ملکیت سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور تکنیکی چیلنجز تاحال ایک بڑا سوال ہیں۔

 

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی خلائی معاہدوں کے تحت کسی بھی آسمانی جسم پر نجی ملکیت کی اجازت نہیں، اس لیے ایسے اعلانات کو مستقبل کے منصوبوں یا تصوراتی پیشکش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس اعلان نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، جہاں بعض صارفین اسے مستقبل کی جھلک قرار دے رہے ہیں وہیں کچھ افراد اسے محض ایک تشہیری مہم سمجھ رہے ہیں۔

جی آر یو اسپیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مزید تفصیلات اور عملی پیش رفت آنے والے مہینوں میں سامنے لائی جائیں گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں